رسائی کے لنکس

logo-print

کیلی فورنیا میں مسلمانوں کی طرف سے فائرنگ کے واقعے کی مذمت


’کیئر‘ کے لاس اینجلس چیپٹر کی طرف سے منعقدہ ایک نیوز کانفرنس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسام ایلوش نے کہا کہ "جو کچھ بھی آج ہوا ہم اس وحشیانہ اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو کی پولیس نے معذوروں کی دیکھ بھال کے ایک مرکز میں فائرنگ میں 14 افراد کی ہلاکت کے واقعہ پر امریکہ میں مسلمانوں کی ایک موقر نمائندہ تنظیم "کیئر" افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

’کیئر‘ کے لاس اینجلس چیپٹر کی طرف سے منعقدہ ایک نیوز کانفرنس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسام ایلوش نے کہا کہ "جو کچھ بھی آج ہوا ہم اس وحشیانہ اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم ایسے کسی بھی نظریے یا سوچ کے خلاف جو کہ ایسے واقعات کا باعث بنیں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔"

واضح رہے کہ حملے کے بعد ہلاک کیے گئے مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کے نام سے کی گئی ہے۔

فاروق کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص پیٹرک باکاری کا کہنا تھا کہ فاروق رواں سال کے اوائل میں سعودی عرب گیا تھا اور واپس ایک اہلیہ کے ساتھ آیا، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ خاتون تاشفین ہی تھیں یا نہیں۔

ادھر فاروق کے برادر نسبتی فرحان خان نے اس واقعے میں مارے جانے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہرگز اندازہ نہیں کہ فاروق نے ایسا کیوں کیا۔

سان برنارڈینو پولیس کے سربراہ جروڈ برگوان نے جمعرات کو علی الصبح بتایا کہ 28 سالہ فاروق امریکہ میں ہی پیدا ہوا جب کہ 27 سالہ خاتون تاشفین ملک کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ تھا اس کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

تاہم خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی تھے اور ان کا ایک بچہ بھی ہے۔

بدھ کو معذوروں کی دیکھ بھال کے مرکز پر ہونے والی فائرنگ میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے اور پولیس نے یہاں سے فرار ہونے والی ایک گاڑی کا پیچھا کر کے اس میں سوار دو مشتبہ حملہ آوروں (فاروق، تاشفین) کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔

برگوان نے تصدیق کی کہ فاروق محکمہ صحت کا ملازم تھا اور اس محکمے نے معذوروں کے مرکز میں کرسمس کے سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کر تھا۔ ان کے بقول فاروق اس تقریب سے غصے سے چلا گیا اور بعد میں جدید خودکار ہتھیاروں سے لیس ہو کر تاشفین کے ساتھ تقریب میں واپس آیا۔

برگوان کا کہنا تھا کہ یہ جوڑا "کسی حد تک اس حملے کی منصوبہ بندی" میں بھی ملوث تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ تاحال اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں کیے جا سکے ہیں لیکن ان کے بقول اس میں دہشت گردی کے عنصر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

برگوان نے بتایا کہ عمارت سے تین دھماکا خیز آلات بھی برآمد ہوئے جنہیں ناکارہ بنایا دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG