رسائی کے لنکس

logo-print

بڈھ بیر فضائی اڈے پر حملے کی مشتبہ خاتون سہولت کار گرفتار


پشاور پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری گزشتہ روز بڈھ بیر کے علاقے میں انٹلیجنس کی بنیاد پر ہونے والے ایک کارروائی کے دواران عمل میں آئی۔

صوبہ خیبر پختو نخواہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے پشاور کے مضافات میں واقع پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کے لیے سہولت کاری کا کام کرنے والی ایک مشتبہ خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون کی گرفتاری بدھ کو بڈھ بیر کے علاقے میں انٹلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ایک کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔

ملزمہ جس کا نام پری زادگئی بتایا جاتا ہے، کو جمعرات کو پشاور کی مقامی عدالت میں پیش کر کے تفتیش کے لیے ریمانڈ کی درخواست کی گئی جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کو پانچ روز کے ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ملزمہ نے بڈھ بیر میں واقع فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کو کھانے پینے کے علاوہ دیگر اشیا فراہم کی تھیں۔

گزشتہ سال 18 ستمبر کو 13 مسلح عسکریت پسندوں نے پشاور کے مضافات میں واقع فضائیہ کے اڈے پر حملہ کیا تھا جس میں فوجی اہلکاروں سمیت 29 افراد ہلاک ہوئے۔ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہوئے حملے کے بعد بڈھا بیر کے فضائی اڈے پر عسکریت پسندوں کا حملہ مہلک ترین کارروائی تھی۔

XS
SM
MD
LG