رسائی کے لنکس

بجارانی نے اہلیہ کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کی: پولیس


فائل فوٹو

پولیس نے میر ہزار خان بجارانی کی حفاظت پر تعینات دو پولیس اہلکاروں اور چار نجی ملازمین کے بیانات قلم بند کیے ہیں جن کے مطابق میاں بیوی میں گزشتہ چند روز سے کسی بات پر جھگڑا چل رہا تھا۔

کراچی پولیس نے سندھ کے صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ شواہد کے مطابق میر بجارانی نے اپنی اہلیہ کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کی۔

میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں جمعرات کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھیں۔

جمعے کو کراچی پولیس کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے جائے واقعہ سے اکٹھے کیے جانے والے شواہد، ملازمین کے بیانات اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی نے اپنی اہلیہ کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد اسی پستول سے خود کو گولی مار کر اپنی جان لی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو جمعرات کی دوپہر واقعے کی اطلاع ملی تھی جس پر پولیس حکام میر بجارانی کے گھر پر پہنچے تو ان کی اہلیہ فریحہ رزاق کی لاش مکان کی پہلی منزل پر واقع رہائشی کمرے سے متصل اسٹڈی کے فرش پر جب کہ میر بجارانی کی لاش اسی کمرے میں صوفے پر پڑی ہوئی تھی۔

میر ہزار خان بجارانی اپنی موت سے چند روز قبل ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (فائل فوٹو)
میر ہزار خان بجارانی اپنی موت سے چند روز قبل ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی کو سر پر ایک گولی لگی جو آر پار نکل گئی جب کہ ان کی اہلیہ کو سر پر ایک اور پیٹ میں دو گولیاں ماری گئیں۔

پولیس کو جائے واردات سے چاروں گولیوں کے خول، نشانے پر نہ لگنے والی تین دیگر گولیاں اور فائرنگ میں استعمال کیا جانے والا پستول بھی ملا ہے۔

کراچی پولیس کے ڈی آئی جی جنوبی آزاد خان کے مطابق پولیس نے میر ہزار خان بجارانی کی حفاظت پر تعینات دو پولیس اہلکاروں اور چار نجی ملازمین کے بیانات قلم بند کیے ہیں جن کے مطابق میاں بیوی میں گزشتہ چند روز سے کسی بات پر جھگڑا چل رہا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے وقت گھر اندر سے بند تھا جس پر میر ہزار خان بجارانی کے بیٹے اپنے ملازمین کی مدد سے دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئے۔

ڈی آئی جی آزاد خان کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

دریں اثنا میر ہزار خان بجارانی کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی قصبے کرم پور ضلع کشمور میں ادا کردی گئی ہے جس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ، صوبائی کابینہ کے ارکان اور پی پی پی کے اعلیٰ رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

میر ہزار خان بجارانی کی نمازِ جنازہ کے موقع پر کشمور اور جیکب آباد کے اضلاع کے کئی شہروں اور قصبوں میں سوگ میں کاروباری مراکز بند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG