رسائی کے لنکس

logo-print

سویڈن میں اسکول پر حملہ ’نسل پرستی‘ پر مبنی تھا: پولیس


ذرائع ابلاغ کے مطابق جب حملہ آور سکول میں داخل ہوا تو اس نے سیاہ ہیلمٹ اور چہرے پر سیاہ نقاب پہن رکھا تھا اور ایک تلوار اٹھا رکھی تھی۔

سویڈن کی پولیس نے جمعہ کو کہا ہے کہ اسکول میں تیز دھار آلے سے حملہ کرنے والے نقاب پوش شخص کے محرکات نسل پرستانہ تھے، جس نے ایک استاد اور ایک طالب علم کو ہلاک جبکہ دیگر دو کو زخمی کر دیا تھا۔

سویڈن کے عوام جمعرات کو ہونے والے اس واقعے سے گہرے صدمے کا شکار ہیں جس میں حملہ آور نے ٹرول ہیٹن میں واقع ایک سکول میں داخل ہو کر طالب علموں اور عملے پر تیز دھار آلے سے وار کرنا شروع کر دیا۔

مغربی سویڈن میں پچاس ہزار نفوس پر مشتمل ٹرول ہیٹن میں بڑی تعداد میں تارکین وطن آباد ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جب حملہ آور اسکول میں داخل ہوا تو اس نے سیاہ ہیلمٹ اور چہرے پر سیاہ نقاب پہن رکھا تھا اور ایک تلوار اٹھا رکھی تھی۔

طلبا یہ سمجھے کہ وہ ہیلووین تہوار کے لیے تیار ہو کر آیا ہے جس میں لوگ اپنی پسند کا روپ دھارنے کے لیے خصوصی لباس پہنتے ہیں۔

تاہم جب 21 سالہ مشتبہ شخص نے لوگوں پر تلوار سے وار کرنا شروع کیا تو پولیس نے اس پر گولی چلائی جس کے بعد وہ اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔

پولیس چیف نکلس ہالگرین نے سویڈن کے سرکاری ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ حملہ آور کے محرکات نسل پرستانہ تھے۔‘‘

’’ہم مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ کی تلاشی، اس حملے کے دوران اس کے رویے اور اس کی طرف سے نشانہ بنائے جانے والے افراد کے انتخاب سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔‘‘

اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے دو ہلاک ہو گئے۔

XS
SM
MD
LG