رسائی کے لنکس

پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، تین کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی


پشاور میں ایک پولیو ورکر بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا رہی ہے،انتہاپسندوں کے حملوں سے بچانے کے لیے مسلح پولیس اہل کار ہمراہ ہے۔ 30 جنوری 2020
پشاور میں ایک پولیو ورکر بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا رہی ہے،انتہاپسندوں کے حملوں سے بچانے کے لیے مسلح پولیس اہل کار ہمراہ ہے۔ 30 جنوری 2020

پاکستان بھر میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لیے سوموار کے روز سے انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم شروع ہو گئی ہے جس کے دوران تین کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جائیں گے۔

موجودہ انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم سے پہلے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع میں اس مہم کو اُس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب 29 جنوری کو ضلع صوابی کے ایک علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے دو خواتین پولیو ورکرز کو فائرنگ کر کے اُنہیں قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد ضلع صوابی کے دیگر علاقوں سمیت 13 اضلاع میں یہ مہم تو جاری رہی مگر تحصیل رزڑ کی اس خصوصی یونین کونسل میں یہ مہم روک دی گئی تھی۔

ملک بھر میں رواں سال اب تک 17 بچوں میں پولیو کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 10 کا تعلق خیبر پختونخوا، پانچ کا سندھ اور دو کا بلوچستان سے بتایا جاتا ہے۔ جب کہ پنجاب میں یہ سال شروع ہونے کے بعد سے ابھی تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

حکام کے مطابق پچھلے سال ملک بھر کے پولیو سے متاثرہ 144 افراد میں 92 کا تعلق خیبر پختونخوا، 30 کا تعلق سندھ، 12 کا بلوچستان اور 10 کا پنجاب سے تھا۔

خیبر پختونخوا میں پولیو کے سب سے زیادہ 66 مریض جنوبی ڈویژن بنوں کے تین اضلاع سے تھے۔

خیبر پختونخوا میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پیش نظر حکام پولیو کی روک تھام کی مہم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ صوبے کے انسداد پولیو کے ہنگامی مرکز کے سربراہ عبدالباسط خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موجودہ مہم کے دوران لگ بھگ 67 لاکھ اور پچاس ہزار سے زیادہ بچوں کو 22507 اہل کاروں کے ذریعے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گھر گھر تک پہنچنے کے علاوہ صوبے کے تمام شہروں اور قصبوں کے بس اڈوں، اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر موبائل ٹیموں میں شامل رضا کاروں اور اہل کاروں کے ذریعے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

پچھلے سال اپریل میں پشاور کے ایک نواحی علاقے بڈھ بیر کے ایک نجی سکول میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے بعد بچوں کی حالت مبینہ طور پر غیر ہونے سے انسداد پولیو کے تمام تر مہمات کو خاصا دھچکا لگا تھا۔ اس سال حکام نے مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں میں پڑھنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کیے ہیں۔

انسداد پولیو مہم میں اہم رکاوٹ انکاری والدین میں جن کی تعداد عبدالباسط خان کے بقول 72 ہزار ہیں جن میں سے لگ بھگ 36 ہزار کا تعلق خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور ہی سے ہیں۔

عبدالباسط خان نے اپنے بچوں کو پولیو ویکسن کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر اور صحت مند مستقبل کے لیے انہیں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ضرور دیں۔

عبدالباسط خان نے ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا میں شروع ہونے والی پانچ روزہ خصوصی مہم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

دنیا بھر پاکستان اور افغاستان دو ایسے ممالک باقی رہ گئے ہیں جہاں ابھی تک پولیو کا مرض موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آنے جانے والے تمام عمر کے لوگوں کے لئے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا لازمی قرار دیا جا چکا ہے، جب کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہوں پر 14 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG