رسائی کے لنکس

صوابی: انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں زخمی ایک اور خاتون رضا کار چل بسی


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں انسدادِ پولیو مہم میں شامل خواتین اہلکاروں پر بدھ کو نامعلوم حملہ آوروں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج خاتون پولیو رضا کار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی۔

خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ثناء اللہ عباسی نے بدھ کی رات گئے صوابی کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے علاوہ متاثرہ خواتین کے لواحقین سے بھی ملاقات کی۔

انسپکٹر جنرل پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے سول اور پولیس عہدیداروں پر مشتمل تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کو تین دن روز کے تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوابی کے متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیو سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 15 اضلاع میں 27 جنوری سے انسداد پولیو مہم جاری ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں 13 اضلاع میں ایک خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔

رواں سال اب تک ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ چھ مریضوں میں تین جب کہ پچھلے سال 140 میں سے 96 کا تعلق خیبر پختونخوا ہی سے تھا۔

​عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو کیسز میں مسلسل اضافے کی وجوہات میں پولیو ورکرز کو درپیش سیکیورٹی مشکلات کو بھی شامل کیا تھا۔

گزشتہ سال ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ 136 مریضوں میں سے 92 کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا جبکہ 68 کا تعلق جنوبی بنوں ڈویژن سے تھا۔ سب سے زیادہ متاثرہ بچوں کا تعلق لکی مروت ضلع سے تھا۔

پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

پولیو ٹیموں کے تحفظ کے پیش نظر مرکزی اور صوبائی حکومتیں پولیو اہلکاروں کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کرتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG