رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: باجوڑ میں پولیو رضا کار قتل


فائل فوٹو

افغانستان سے ملحقہ ضلع باجوڑ کے ایک سرحدی علاقے میں ہفتے کی رات نامعلوم حملہ آوروں نے انسداد پولیو سے وابستہ ایک عہدیدار کو گولیاں مارکر ہلاک کر دیا۔

باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق انسداد پولیو مہم کی نگرانی پر مامور آفیسر عبداللہ جان کو تنی گاؤں کے قریبب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

واقعہ کے بعد باجوڑ لیویز اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور اُنہوں نے 35سالہ عبداللہ جان کی لاش ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

عبداللہ جان کے قتل کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تاہم حکام کے مطابق یہ دہشت گردی کا واقعہ لگتا ہے۔

ضلعی پولیس افسر پیر شہاب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عبداللہ جان کے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ مہمند میں بھی پولیو رضا کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو رضا مند کرنے والے رضا کار واجد کو بھی بعدازاں قتل کر دیا گیا تھا۔

اپریل کے آخری ہفتے میں شمالی ضلع بونیر میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہل کار کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا میں پولیو قطرے پلائے جانے کے بعد بچوں کی حالت غیر ہونے پر گذشتہ ماہ پولیو مہم روکی بھی گئی تھی۔ یہ واقعہ پشاور کے نواح بڈھ بیر کے ایک نجی اسکول میں پیش آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد لگ بھگ 16 ہزار بچوں کو طبی معائنے کے لئے مختلف اسپتالوں میں لایا گیا تھا جس کے بعد والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو قطرے نہ پلوانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا تھا۔

سرکاری عہدیداروں کے مطابق ہفتے کے روز ہی جنوبی ضلع بنوں میں ایک سالہ بچی کو پولیو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں سال ملک بھر میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ جن میں سے سات کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

دنیا بھر میں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو کے وائرس موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG