رسائی کے لنکس

logo-print

تجزیہ کار: ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کی جیت کا 80 فی صد امکان


تقریباً تین ماہ بعد امریکی صدارتی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں، لیکن متعدد تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 80 فی صد سے زائد امکان ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دیں گی، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں اور پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔

آٹھ نومبر کو ہونے والے انتخاب کے لیے 12 ہفتے کی انتخابی مہم باقی ہے، جب جیتنے والا صدر براک اوباما کی جگہ لے گا جو آئندہ جنوری میں اپنی میعاد مکمل کرنے والے ہیں؛ جب کہ ستمبر اور اکتوبر میں کلنٹن اور ٹرمپ کے مابین تین مباحثے ہونے والے ہیں جن سے کسی بھی امیدوار کی قسمت بدل سکتی ہے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کی رائے میں اس دوڑ میں، فی الوقت، کلنٹن کو کافی سبقت حاصل ہے، اور رائے عامہ کے قومی جائزوں کے مطابق، اُنھیں سات فی صد کی برتری برقرار ہے، جب کہ کانٹے کے مقابلے والی ریاستیں جن کے بل بوتے پر امریکی صدارتی انتخابات کا فیصلہ ہوگا وہاں بھی اُنھیں سبقت دکھائی دیتی ہے۔

چار سالہ امریکی صدارتی انتخاب کا دارومدار قومی مقبولیت پر مبنی رائے دہی نہیں ہے، بلکہ 50 ریاستوں میں ووٹنگ کے نتائج پر ہوتا ہے؛ جب کہ اِن ریاستوں کی اہمیت ’الیکٹورل کالج‘ میں اُن کی پوزیشن پر منحصر ہے، جو آبادی کی بنیاد پر اور کانگریس میں سینیٹروں اور نمائندگان کے عدد کے اعتبار سے طے ہوتا ہے۔
چالیس ریاستوں میں ووٹروں نے پچھلے انتخابات میں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کا ساتھ دیا ہے، جب کہ دیگر 10 ریاستوں میں جہاں سیاسی اتحاد جوڑ توڑ سے کام نہیں لیتے، وہاں ہمدردیاں ایک سے دوسری پارٹی کی جانب بدلتی رہتی ہیں، جن کا انحصار امیدوار کی شخصیت یا پھر درپیش سیاسی مسائل پر ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اِنہی سخت مقابلے والی ریاستوں میں کلنٹن کو پہلے ہی 538 پر مشتمل ’الیکٹورل کالج‘ کی 270 کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، جن کی مدد سے وہ ملک کی پینتالیسویں صدر اور پہلی خاتون کمانڈر اِن چیف بن سکتی ہیں۔

’نیویارک ٹائمز‘ کی ’’538‘‘ ویب سائٹ کی الیکشن پیش گوئی، اور ’پرنسٹن الیکشن کنسورشئم‘ اور ’پرڈکٹ وائز‘ نے کہا ہے کہ کلنٹن کی جیت کا 80 فی صد امکان ہے؛ جب کہ سیاسی تجزیہ کار چارلی کوک، لیری سباتو اور اسٹوئرٹ روتھن برگ اور نتھن گونزالیز سبھی یہی کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کا پلڑا اُنہی کی طرف بھاری ہے۔

سیاسی جائزوں کے مطابق، ٹرمپ جس نے نامور ری پبلیکن عہدے داروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کی، اور کلنٹن جو سابق صدر بِل کلنٹن کی بیوی ہیں کو گذشتہ ماہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنوینشن کے بعد نئی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ری پبلیکن کنویشن کے بعد، ٹرمپ کی کلنٹن کے ساتھ برابر کی مقبولیت کی باتیں سامنے آئیں، لیکن ڈیموکریٹک کنوینشن کے بعد کلنٹن کو فوری طور پر سبقت حاصل ہوگئی؛ اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس وقت اُنھیں متفقہ طور پر برتری حاصل ہے۔

طویل مدت سے میدان کے سیاسی گرو رہنے والے، کوک نے بتایا ہے کہ دونوں سیاسی کنوینشنز کے بعد قومی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ’’یہ بھرپور طور پر جاری ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’متعدد مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ جدید صدارتی پولنگ کے گذشتہ چھ عشروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا یہ گیا ہے کہ جس امیدوار کو آخری کنویشن کے دوسرے ہفتے کے بعد کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں برتری ہوتی ہے، وہی فتحیاب ہوتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اِس بات کا قوی امکان ہے کہ ہیلری کلنٹن ڈونالڈ ٹرمپ پر حاوی ہیں، چونکہ اُنھیں خاصی سبقت حاصل ہے جو بڑھ رہی ہے‘‘۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکی دونوں امیدواروں کو منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن کلنٹن کے مقابلے میں وہ ٹرمپ کو زیادہ منفی خیال کرتے ہیں۔ سرویز میں دکھائی دیتا ہے کہ اب فیصلہ اِس بات پر ہے کہ وہ کس امیدوار کو زیادہ برا خیال کرتے ہیں اُنھیں ووٹ نہ دیا جائے بجائے ٹرمپ اور کلنٹن نام پر ووٹ دینے کے۔

XS
SM
MD
LG