رسائی کے لنکس

logo-print

کردوں کا تاریخی پس منظر


بے دخل ہونے والے کرد

کردوں کا تعلق قدیم عراقی تمدن سے ہے، جو میزو پوٹامیا (نینوا) کے ریگزاروں اور پہاڑی علاقوں کے مکین رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو ترکی کے جنوب مشرق، شام کے شمال مشرق، عراق کے شمال، ایران کے شمال مغربی اور آرمینیا کے جنوب مغربی علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔

کرد مشرق وسطیٰ کا چوتھا سب سے بڑا نسلی گروہ ہیں، جن کی تعداد ڈھائی سے ساڑھے تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

چار ملک جن میں کرد آباد ہیں، ان کی مختصر سیاسی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

عراق:
عراق کی کل آبادی تین کروڑ 80 لاکھ ہے، جن میں کردوں کی آبادی کی شرح اندازاً 15 سے 20 فی صد ہے۔ وہ شمالی عراق کے پہاڑی علاقوں میں بستے ہیں۔ ہمسایہ تین ملکوں کے مقابلے میں یہاں کے کردوں کو بہتر قومی حقوق حاصل ہیں۔

سال 2003 میں صدام حسین کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد عراقی کردوں کو بڑی حد تک سیاسی حقوق ملے ہیں۔

سال 2005 میں عراق کے آئین میں عربی کے ساتھ ساتھ کرد زبان کو سرکاری درجہ دیا گیا۔ کردستان کے علاقے کے اربیل، سلیمانیہ اور دھوک کے صوبوں کو وفاقی اکائی کا حصہ تسلیم کیا گیا، جن کی اپنی فوج ہے، جسے پیشمرگہ کہا جاتا ہے۔
تاہم، کردوں اور عراقی حکومت کے باہمی تعلقات محاذ آرائی اور خونریزی سے عبارت رہے ہیں، جن میں مرکزی حکومت جابرانہ کارروائیاں کرتی رہی ہے۔ خاص طور پر صدام حسین کے دور حکومت میں ان کے ساتھ زیادتیاں کی گئی تھیں۔

1980ء کی دہائی کے اواخر میں صدام کی افواج نے کرد مزاحمتی تحریک کے خلاف ’انفال‘ مہم کا آغاز کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مہم کے دوران 180000 کرد ہلاک یا لاپتا ہوئے جبکہ ان کے تقریباً 4500 دیہات تباہ کیے گئے۔ عراقی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ خاص طور پر حلبجہ کے قصبے پر 1998ء کا زہریلی گیس کے حملے میں تقریباً 5000 لوگ ہلاک ہوئے۔
مارچ، 1991ء میں جب حکومت عراق میں سرکشی دبانے میں کامیاب ہوئی، تقریباً 15 لاکھ عراقی کرد ایران اور ترکی کی جانب بھاگ نکلے۔ اس کے نتیجے میں مہاجرین کا ایک بحران پیدا ہوا۔ صدام مخالف بین الاقوامی اتحاد نے شمالی عراق کے علاقے میں جزوی ’نو فلائی زون‘ قائم کیا۔
سال 2014ء میں داعش کے دہشت گرد گروپ کے نمودار ہونے کے بعد عراقی حکومت کمزور پڑ گئی۔ جیسے جیسے عراقی افواج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، ان کی جگہ کرد پیشمرگہ نے لے لی۔ پھر کردوں نے اعلان کیا کہ وہ ان علاقوں سے جانے کا کوئی ارادہ رکھتے۔ عراقی آئین میں ان علاقوں کو متنازع علاقے قرار دیا گیا ہے۔
جب داعش کا قبضہ مستحکم نہ ہو سکا تو بین الاقوامی حمایت کے ساتھ کرد پیشمرگہ نے ان علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کو شکست دی۔ پھر آزادی کے حصول کی خاطر کردستان خطے میں ریفرینڈم کرایا گیا۔ ستمبر 2017ء میں ہونے والی ووٹنگ میں اس کی حمایت میں 93.25 فی صد ووٹ پڑے۔ تاہم ایران کی مبینہ حمایت کے ساتھ حکومتِ عراق نے کردوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھی۔
شام:
لڑائی شروع ہونے سے پہلے، شام کی آبادی دو کروڑ 20 لاکھ تھی جس میں سے کرد تقریباً 15 فی صد تھے۔ بنیادی طور پر وہ شام کے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ کردوں کی کافی تعداد دمشق اور حلب کے اہم شامی شہروں میں مقیم ہیں۔
1920 کی دہائی میں شام کی جدید ریاست قائم ہوئی۔ تب سے شامی کرد سیاسی اور لسانی حقوق سے محروم ہیں۔
شام میں پہلی کرد سیاسی جماعت 1957ء میں بنائی گئی، جس میں عراقی کردوں کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ 2011ء میں شام کی خانہ جنگی کے دوران، پہلی بار شامی کرد اپنے علاقوں میں نمایاں نظر آئے۔ جب شام کی فوجوں کا انخلا ہوا، پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے علاقے کا کنٹرول سنبھالا جبکہ شامی فوج نے لڑائی کے شکار ملک میں دیگر باغی گروپوں سے لڑائی جاری رکھی۔
جب داعش نے شام میں قدم جمائے، ’وائی پی جی‘ ان کے خلاف ایک مؤثر طاقت بن کر ابھری۔ بعدازاں، شامی علاقوں سے داعش کو نکال باہر کرنے میں امریکی قیادت والے اتحاد نے کرد گروپ کو مدد فراہم کی۔
سال 2015ء میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) قائم ہوئی، جس میں کردوں کے علاوہ دیگر جنگجو بھی شامل کیے گئے۔ امریکی حمایت کے ساتھ ’ایس ڈی ایف‘ نے داعش کے زیر قبضہ زیادہ تر علاقوں کو فتح کیا، جس میں رقہ بھی شامل تھا جو داعش کا خودساختہ دارالحکومت تھا۔ مارچ 2019ء میں ’ایس ڈی ایف‘ نے داعش کی شکست کا اعلان کیا۔
کرد قیادت والے ’ایس ڈی ایف‘ نے شام کے تقریباً ایک تہائی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو نیم خود مختار خطے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ لیکن ترکی ’وائی پی جی‘ کو ترکی میں قائم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ایک شاخ تصور کرتا ہے اور جس گروپ کو ترکی، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

ترکی:
ترکی میں غیر ترک نسل کی سب سے بڑی آبادی کردوں پر مشتمل ہے، جو ترکی کی آبادی کا 20 فی صد ہیں۔
کئی عشروں سے کرد ملک کی خود ساختہ ترک پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جنھیں اپنی لسانی شناخت سے محروم رکھا گیا ہے۔ برسوں سے کردوں کی پہچان، ’’پہاڑوں پر بسنے والے ترک‘‘ قرار دی جاتی رہی ہے۔
آزاد کردستان کی تاریخ طویل ہے جس کی جڑیں عثمانیہ خلافت سے جا ملتی ہیں۔ سال 1920کے ’سیوریز کے معاہدے‘ میں مغربی اتحادیوں نے خود مختار کردستان کا وعدہ کیا تھا۔ 1923ء میں جب جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی گئی، تو یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
ترکوں نے کردوں کو اپنی قومی وحدت کے لیے ہمیشہ ایک خطرہ سمجھا ہے، جنھیں کبھی شہریت کے مساوی حقوق نہیں دیے گئے۔
سال 1978ء میں عبداللہ اوکلان نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ترکی کے اندر متحدہ آزاد کردستان کیلئے جدوجہد کرنا تھا جس میں نہ صرف ترکی بلکہ عراق، ایران اور شام کے علاقے بھی شامل ہیں۔ گروپ نے 1948ء میں اپنی باغیانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ترک حکومت اور ’پی کے کے‘ کے مابین تنازعے کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہلاک اور بے دخل ہو چکے ہیں۔

سال 1999ء میں ترکی کی انٹیلی جنس کی جانب سے کینیا میں اوکلان کو گرفتار کیا گیا۔ تب سے وہ استنبول کے قریب ایک قید خانے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ایران:

ایران کی آٹھ کروڑ آبادی میں کردوں کی شرح 9 فی صد ہے۔ وہ زیادہ تر سنی مسلمان ہیں، لیکن کچھ لوگ شیعہ اور زرتشست بھی ہیں۔
سال 1946ء میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے قیام کے بعد ایران میں کرد سیاسی تحریک کا آغاز ہوا۔ قاضی محمد کی قیادت میں گروپ نے اسی سال مہاآباد کے شہر میں کرد جمہوریہ کا اعلان کیا۔ اس کے فوری بعد، تقریباً 11 ماہ تک ایرانی حکومت نے مہاآباد پر چڑھائی کی اور قاضی محمد کو فوری طور پر سولی پر چڑھا دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG