رسائی کے لنکس

پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنطیموں کے عہدیداروں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح مؤقف اختیار کریں۔

یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمعرات کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد دنیا بھر میں ان صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان سے گزر گئے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر، مبارک زیب خان نے اس موقع پر ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صحافیوں کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے اور مستقل روزگار کی ضمانت نا ہونے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات معاشی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

مبارک زیب نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں لیکن۔ ان کے بقول، ’’تشویش کی بات یہ ہے کہ اب ایسے واقعات کا نشانہ شہری علاقوں میں کام کرنے والے صحافی بھی بن رہے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ "ہم دیکھتے ہیں جو صحافیوں کی خلاف ملک بھر میں ہونے والے تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے سب سے زیادہ واقعات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رونما ہوئے ہیں اور یہ شہر اب صحافیوں کے لیے ایک محفوط جگہ نہیں رہا ہے۔"

انہوں نے کہ یہ واقعات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب آئندہ چند ہفتوں کے بعد ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے واقعات بظاہر آزادی اظہار کو محدود کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔

مبارک زیب نے آزادری اظہار کے مبینہ اقدام کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے منشور میں آزادی اٖظہار اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کریں۔

بقول اُن کے، "ہم ان سے یہ کہہ رہے کہ اب الیکشن قریب ہیں اس لیے وہ اپنے منشور میں آزادی اظہار کے بارے میں اپنی مجوزہ پالیسی کو شامل کریں، تاکہ جو بھی جماعت انتخاب جیت کر حکومت بنائے گی وہ اس پر عمل درآمد کریں گے۔"

صحافیوں کی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکار تنظیم تنظیم ’فریڈم نیٹ ورک‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں کے خلاف تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے 150 سے زائد واقعات رونما ہوئےجبکہ پانچ صحافی قتل کر دئے گئے ۔

سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے پاکستان میں آزادی اظہار کی فضا سکڑ رہی ہے اور الیکڑنک اور پریس میڈیا میں خود ساختہ سنسر شپ کرنے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ متعدد انگریزی اخبارات کے کالم نگاروں کو ایڈیٹرز کی طرف سے کہا گیا کہ ان کے کالم شائع نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم، اس فیصلے کی کو۴ی وجہ بیان سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت ناصرف آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے، بلکہ صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو تحفط فراہم کرنے کے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔


فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG