رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں یو ٹرن کی سیاست


پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پر طویل عرصے سے یو ٹرن لینے یعنی اپنے فیصلوں کو بار بار بدلنے کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں اور حالیہ طور پر مخالف سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان الزامات میں اس قدر شدت پیدا ہوگئی ہے کہ اُنہوں نے عمران خان کو ’یو ٹرن خان‘ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا ہے۔

خود عمران خان نے بھی ان الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے اپنا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ فیصلے بدلنا حقیقت میں بہترین قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات بدلتے رہتے ہیں اور اگر اُن کے تناظر میں اپنے فیصلوں کو بدلا نہ جائے تو نتیجہ ویسا ہی برآمد ہوتا ہے جیسا تاریخ کے بدنام ترین ڈکٹیٹرز ہٹلر اور میسولینی کے ساتھ ہوا یعنی عبرتناک شکست اُن کا مقدر بنی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمران خان درست بات کر رہے ہیں۔ تاہم، اُنہیں ہٹلر اور مسولینی کی مثال دینے سے گریز کرنا چاہئیے تھا۔

پاکستان کے سابق وزرائے اعظم بھی اکثر اپنے فیصلے بدلتے رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ قطری شہزادے کے خط سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، جبکہ ماضی میں پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے اور پھر بعد میں نیب میں بیان دیتے ہوئے اُنہوں نے اس خط کا بار بار ذکر کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے معروف سوانح نگار اوریانا فلاسی نے جب سوال کیا کہ کسی نے اُنہیں بتایا ہے کہ آپ متوازن شخصیت نہیں ہیں۔ آپ ایک دن کچھ کہتے ہیں اور دوسرے دن اپنا بیان بالکل بدل دیتے ہیں۔ یوں یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کے دماغ میں دراصل کیا چل رہا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اس سوال کا بہت دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں فلسفی جان لاک کی جس واحد بات کو تسلیم کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ مستقل مزاجی چھوٹے ذہنوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بنیادی نظریے کو مضبوط رہنا چاہئیے۔ لیکن باقی باتوں میں بار بار تبدیلی کر لینا کوئی بری بات نہیں۔ آپ کبھی دائیں طرف جا سکتے ہیں اور کبھی بائیں طرف۔

بھٹو نے کہا کہ کوئی دانشور کبھی ایک ہی نظریے سے چمٹے نہیں رہتے بلکہ اُن کی سوچ میں لچک ہونا ضروری ہے۔ وگرنہ دوسری صورت میں وہ خودکلامی اور پاگل پن کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیاست ایک متحرک چیز ہے اور سیاستدان کو ضرورت کے مطابق اپنے نظریات تبدیل کرتے رہنا چاہئیے۔ اُن میں تضادات کا ہونا ضروری ہے۔ اپنے سیاسی حریفوں کی کمزوریوں کو ہر زاویے سے ہدف تنقید بناتے رہنا چاہئیے۔ لہذا، بھٹو کے مطابق، غیر مستقل مزاجی ذہین شخص کی خوبی ہے۔

بھٹو نے اپنے جواب میں بھارت کی آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو نہیں سمجھتیں اور یوں اُنہیں سیاست کے پیشے کی خوبصورتی کا ادراک نہیں ہے۔ تاہم، اُن کے والد اس بات کو سمجھتے تھے۔

اوریانا فلاسی کا ذووالفقار علی بھٹو سے یہ انٹرویو اُن کی مشہور کتاب Interview with History، یعنی ’تاریخ اور طاقتور شخصیات سے انٹرویو‘ میں موجود ہے۔

یوں، سیاست میں یوٹرن لینا خوبی ہے یا کچھ اور، اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG