رسائی کے لنکس

کرونا لاک ڈاؤن کے باوجود فضائی آلودگی میں متوقع کمی نہیں ہو سکی


سان فرانسسکو میں فضائی آلودگی کا ایک منظر۔ 9 ستبمر 2020

کرونا وائرس کے پھیلنے کے باعث دنیا بھر میں لگائے گئے لاک ڈاؤنز سے فضا میں کچھ بہتری تو آئی مگر ماہرین کے مطابق بہت سے شہروں کی فضا بدستور مضر صحت رہی۔

لاک ڈاؤن کے آغاز میں اگرچہ بہت سے شہروں میں فضا صاف ہوئی مگر سائنس دانوں نے گہرائی سے جب ڈیٹا کو دیکھا تو انکشاف ہوا کہ بہت سے مضر صحت ذرات فضا میں موجود رہے۔

سائنس دانوں کے مطابق فضا میں بہتری کچھ جگہوں میں ہوئی، جب کہ بہت سے شہروں کی فضا میں بہتری امید کے مطابق نہیں آئی۔

سال 2020 کے آغاز میں ووہان اور دوسرے چینی شہروں میں چینی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سیٹلائیٹ کی مدد سے دیکھا گیا کہ سڑکوں سے گاڑ یوں کے غائب ہو جانے کے بعد فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں، جو ایندھن کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے، ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔

عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں شہروں میں نائٹریجن آکسائڈ کی مقدار میں ایسی ہی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہر میں آلودہ دن کا زیادہ تر انحصار موسم پر ہوتا ہے۔

اگر تیز ہوائیں چل رہی ہوں تو وہ آلودگی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہیں جب کہ جس دن ہوائیں نہ چل رہی ہوں تو آلودگی ایک ہی جگہ موجود رہتی ہے اور سموگ کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

دنیا میں 40 فی صد اموات کی وجہ فضائی آلودگی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:22 0:00

یونیورسٹی آف برمنگھم کے فضائی کیمسٹری کے پروفیسر زونگو شی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر موجود ڈیٹا سے موسم کے اثرات کو نکال کر فضا میں آلودگی کی مقدار کو دیکھا ہے۔

ان کی تحقیق کے مطابق فضا میں آلودگی کی مقدار کم تو ہوئی ہے مگر آغاز میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں کم۔

مثال کے طور پر ووہان میں شروع کے اندازوں کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی۔ مگر شی کے گروپ کی جانب سے کی جانے والی ریسرچ میں یہ معلوم ہوا کہ یہ کمی آلودگی کی صرف ایک تہائی ہی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ بہت سی جگہوں پر لاک ڈاؤنز کے بعد کاروبار کا مکمل طور پر معطل نہ ہونا بھی ہے۔

مثال کے طور پر لندن میں مسافر کاروں کے استعمال میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی جب کہ ٹرکوں کی ٹریفک میں صرف 30 سے 40 فیصد کمی واقع ہوئی۔

اس کے علاوہ اکثر لوگ گھروں سے کام کر رہے تھے، اس لیے بجلی کے استعمال میں معمولی کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی نہ ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے جہاں نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں کمی واقع ہوئی تو دوسرے مضر صحت ذرات کی مقدار میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG