رسائی کے لنکس

logo-print

صوبائی اداروں کے سربراہان کی ہلاکت، امریکہ کی قندھار حملے کی مذمت


امریکہ نے قندھار میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے جس میں افغان صوبائی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک اخباری بیان میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل رازق اور دیگر اعلیٰ افغان اہلکاروں کی ہلاکت پر مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم حملے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحتیابی کے متمنی ہیں، جن میں دو امریکی اور اتحادی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اہل کار شامل ہیں، جو حملے کے وقت وہاں موجود تھے‘‘۔

پومپیو نے کہا ہے کہ ایسے میں جب تمام افغان شہریوں کو سکیورٹی فراہم کیے جانے کا کام جاری ہے، امریکہ افغان حکومت اور عوام کی حمایت برقرار رکھنے میں پُرعزم ہے، جن میں 20 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم کے یہ آخری شب و روز ہیں۔ یہ حالیہ حملے امن، سلامتی اور معاشی استحکام کے بارے میں افغان عوام کے احساسات کے بالکل برعکس ہیں‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’’اپنا ووٹ شمار کروانے کے افغان عوام کےحق اور اُن کی خواہش کی قدر کی جانی چاہیئے‘‘۔

جمعرات کو قندھار کے گورنر کے دفتر میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق، اور افغان انٹیلی جنس ادارے 'این ڈی اے' کے صوبائی سربراہ ہلاک ہوئے؛ جب کہ گورنر شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔حملے میں جنرل اسکاٹ مِلر محفوظ رہے، لیکن امریکی حکام نے کہا ہے کہ فائرنگ سے دو امریکی زخمی ہوئے ہیں۔

فائرنگ ’گورنر زلمی ویسا‘ کے ایک محافظ نے اُس وقت کی تھی جب صوبائی قیادت اور افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ مِلرکے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد اجلاس کے شرکا واپس روانہ ہو رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG