رسائی کے لنکس

logo-print

پومپیو کا دورہ یورپ، توانائی اور دفاع سے متعلق معاہدے ایجنڈے میں شامل


امریکی وزیر دفاع ایک ہفتے کے دورے پر منگل کو چیک ری پبلک پہنچے تھے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو وسطی یورپ کے ممالک کے ایک ہفتے کے دورے پر منگل کو چیک ری پبلک پہنچ گئے۔ دورے کے دوران پومپیو سلووینیا، آسٹریا اور پولینڈ بھی جائیں گے۔

یہ دورہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد وسطی یورپ کے ان ملکوں میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

چیک ری پبلک پہنچنے پر امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب تھامس پیٹرک سے ملاقات کی اور امریکہ اور چیک ری پبلک کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

دورے کے دوران مائیک پومپیو اس عجائب گھر بھی گئے جو جنگِ عظیم دوم کے دوران اس علاقے کو آزاد کرنے کے لیے کیے گئے امریکی اقدامات کی یاد میں قائم کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مشرقی یورپ کے ملک سلووینیا بھی جائیں گے کسی بھی اعلٰی امریکی عہدے دار کا 2011 کے بعد یہ اس ملک کا پہلا دورہ ہو گا۔

سلووینیا میں امریکی وزیر خارجہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں گے۔ امریکہ یہ جدید ٹیکنالوجی سلووینیا کو فراہم کرے گا تاکہ اس علاقے میں چینی مداخلت کا سدِ باب کیا جائے۔

یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) جرمنی سے تقریباً 12 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے اور اس کی کچھ تعداد کو پولینڈ اور دوسرے نیٹو ملکوں میں تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

دورے کے دوران پومپیو وسطی یورپ کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
دورے کے دوران پومپیو وسطی یورپ کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ میں یورپی اور یوریشین شعبے کے اسسٹنٹ سیکریٹری سفیر فلپ ریکر کا کہنا ہے کہ پومپیو امریکہ اور پولینڈ کے درمیان وسیع تر دفاعی تعاون کے سمجھوتے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

اس کے علاوہ پومپیو وسطی یورپ کے اس دورے میں توانائی کے منصوبوں پر بھی بات چیت کریں گے۔ اس کی وجہ روس کا متنازع 'نورڈ سٹریم ٹو گیس' پائپ لائن کا منصوبہ ہے جو روس اور جرمنی کو ملائے گا اور یہ اب تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔

سفیر ریکر کا کہنا ہے کہ "ہم ان ملکوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، جو متبادل وسائل کی تلاش میں ہیں۔"

چیک ری پبلک کے دارالحکومت پراگ میں پومپیو چیک ری پبلک کے وزیر اعظم سے ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی مشاورت کریں گے۔

آسٹریا کے دورے کے دوران وزیر خارجہ پومپیو حکام سے اسٹرٹیجک شراکت داری اور باہمی تجارتی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

آسٹریا میں ہی پومپیو عالمی توانائی ایجنسی کے حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے سے نکل چکا ہے اور اب وہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ایران کو ہتھیاروں کی فروخت پر عائد بین الاقوامی پابندی کی مدت میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل توسیع کر دے۔ یہ ملاقات اسی سلسلے کی کڑی قرار دی جا رہی ہے۔

پولینڈ میں وزیر خارجہ پومپیو وزیراعظم موراوائیکی اور وزیر خارجہ سے دفاعی تعاون بڑھانے کے موضوع پر خصوصاً بات کریں گے۔ اس کے علاوہ کرونا وائرس سے نمٹنے، فائیو جی نیٹ ورک کے قیام اور علاقائی توانائی کے انفرا سٹرکچر کو مستحکم کرنے کے اُمور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG