رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدارتی انتخاب کے نتائج میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے: پومپیو


امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ہفتے کو افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نتائج مرتب کرتے وقت شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ نے دھاندلی کی شکایات کا ازالہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے پیر کو ایک ٹوئٹ میں افغان ووٹرز، انتخابی عملے اور سیکورٹی فورسز کی ہمت و حوصلے کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی مشکلات اور سیکورٹی خطرات کے باوجود افغان عوام نے صدارتی انتخاب کا انعقاد یقینی بنایا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کے اعلان سے پہلے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کی طرف سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر تجزیہ کار اور صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کی ٹوئٹ کا تعلق بظاہر عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کے طرف سے اپنی اپنی جیت کے قبل ازوقت دعوؤں سے ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ کہیں 2014 کے صدارتی انتخابات والی صورتِ حال پیدا نہ ہو جائے۔ اس وقت بھی دونوں رہنما کامیابی کے دعوے کرتے رہے تھے۔ بعدازاں تنازع کا حل شراکت اقتدار کے فارمولے کے ذریعے نکالا گیا تھا۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیدار اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ انتخابات شفاف ہونے چاہئیں۔ لہذٰا، امریکہ یہ بالکل نہیں چاہے گا کہ سرکاری نتائج سے قبل ہی یہ انتخابات متنازع ہو جائیں۔

ہفتے کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں لگ بھگ 20 لاکھ سے زائد افغان شہریوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔

انتخابات کے بعد صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔
انتخابات کے بعد صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔

یہ انتخاب ایک ایسے ماحول میں ہوئے جب طالبان اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں نے پولنگ اسٹیشنز پر حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے افغان عوام کو اس عمل سے دور رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

افغانستان کی قومی سلامی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ انہیں ان تمام افراد پر فخر ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خطرات کے باوجود اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمداللہ محب نے کہا کہ "ہم سب نے صرف صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ نہیں دیا بلکہ ہم نے جمہوریت کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ہم نے آزادی اور سالمیت کے لیے ووٹ دیا ہے۔ ہم نے خوشحالی اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے لیے ووٹ دیا ہے۔"

دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی کم شرح اس بات کا مظہر ہے کہ افغان عوام نے ان انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ انتخابات کے تین روز بعد طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں انتخابات کا انعقاد بے مقصد ہے۔

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے بقول، طالبان پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ غیر ملکی فورسز کی موجودگی میں انتخاب کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس لیے طالبان یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ ووٹ ڈالنے نہیں گئے انہوں نے ان انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG