رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل ناگزیر: پوپ کا کرسمس پر پیغام


پوپ فرانسس سینٹ پیٹر بیسی لیکا کی بالکونی سے کرسمس کا پیغام دے رہے ہیں

’’آئیے ہم دعا مانگیں کہ اس تنازعے کے فریقین بات چیت اور مزاکرات کیلئے راضی ہو جائیں تاکہ ان کا حل تلاش کیا جا سکے، ایک ایسا حل جس میں دو ریاستیں بین الاقوامی سرحدوں پر رضا مندی کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں۔‘‘

پوپ فرانسس نے آج پیر کے روز کرسمس کے موقع پر اپنے خاص پیغام میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے سلسلے میں مزاکرات کے ذریعے دو ریاستوں پر مشتمل حل پر زور دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

پوپ فرانسس نے اپنے خاص پیغام میں مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر تنازعوں کے حل پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’آئیے ہم دعا مانگیں کہ اس تنازعے کے فریقین بات چیت اور مزاکرات کیلئے راضی ہو جائیں تاکہ باہمی بات چیت کے ذریعے ان کا حل تلاش کیا جا سکے، ایک ایسا حل جس میں دو ریاستیں بین الاقوامی سرحدوں پر رضا مندی کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے بچوں میں حضرت عیسیٰ دکھائی دیتے ہیں جو اسرائیل اور فلسطینیوں میں مسلسل جاری کشیدگی کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں۔

پوپ فرانسس نے اپنا یہ پیغام سینٹ پیٹر کے بیسی لیکا کی بالکونی سے نیچے موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ پوپ نے 6 دسمبر کو امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے اعلان کے بعد یروشلم کے بارے میں بیان دیا ہے۔ اُس روز پوپ نے یروشلم کی موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ خطے میں کشیدگی نہ بڑھے۔

فلسطین یروشلم کو مستقبل میں اپنی آزاد ریاست کا دارالحکومت بنانے کا خواہشمند ہے جبکہ اسرائیل نے تامتر یروشلم کو اپنا مکمل اور دائمی دارالحکومت قرار دیا ہے۔

دنیا کے لگ بھگ ایک ارب بیس کروڑ رومن کیتھلک عیسائیوں کے مذہبی راہنما پوپ فرانسس نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اُن نہتے بچوں میں حضرت عیسیٰ کی موجودگی کو محسوس کریں جو جنگ سے بدحال ہیں اور خود انسان کی طرف سے اُن پر ڈھائی گئی سختیوں اور مصیبتوں کا شکار ہیں۔

پوپ بننے کے بعد اپنی پانچویں کرسمس کے موقع پر اُنہوں نے کہا کہ مینمار اور بنگلہ دیش کے دورے کے دوران اُنہوں نے معصوم بچوں میں حضرت عیسیٰ کو دیکھا۔ اُنہوں نے روہنگیا مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس خطے میں اقلیتی گروپوں کے تحفظ اور اُن کے وقار کو یقینی بنایا جائے۔

اُنہوں نے کہا، ’’ حضرت عیسیٰ قبول نہ کئے جانے والے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے دکھ کو جانتے ہیں۔ کاش ہمارے دل اُن پر اُس وقت بند نہ ہوں جب وہ بیت اللحم کے گھروں میں موجود ہوں۔‘‘

پوپ نے شام ، عراق اور یمن میں جنگ سے تباہ حال لوگوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھوک و افلاس اور بیماریوں کا شکار ان لوگوں کو بڑی حد تک بھلا دیا گیا ہے۔

کرسمس کے خاص پیغام میں پوپ نے امیگرنٹس کا بھی بھرپور دفاع کیا اور اُن کا موازنہ حضرت مریم اور جوزف سے کرتے ہوئے کہا کہ اُن کیلئے بیت اللحم میں رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG