رسائی کے لنکس

logo-print

پوپ فرانسس کا جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ


پوپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ’’ایک آواز‘‘ ہو جو یہ کہے کہ ’’کوئی جنگ نہ ہو، تشدد نہ ہو۔۔۔۔‘‘

پوپ فرانسس نے جوہری ہتھیاروں پر عالمی سطح پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پوپ فرانسس کی طرف سے یہ بیان اتوار کو اس وقت سامنے آیا جب جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ناگا ساکی پر امریکی کی طرف سے جوہری بم گرانے کی 70 ویں برسی منائی۔

پوپ نے کہا کہ اگست 1945 کے اوئل میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے جانے کی یادیں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے مطالبے کے طور پر موجود رہیں گی۔

پوپ فرانسس نے روم میں کہا کہ "اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ المناک واقعہ نفرت اور خوف تاری کر دیتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ انسانیت کے لیے ایک مستقل تنبیہ ہے کہ جنگ کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دے اور جوہری ہتھیاروں اور وسیع پیمانے پر تباہی کاسبب بننے والے ہر قسم کے ہتھیاروں پر پابندی عائد ہو۔‘‘

پوپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ’’ایک آواز‘‘ ہو جو یہ کہے کہ ’’کوئی جنگ نہ ہو، تشدد نہ ہو، مکالمہ اور امن کے لیے آمادگی ہو جبکہ جنگ سے ہم ہمیشہ نقصان میں رہیں گے۔‘‘

اتوار کو ناگا ساکی پر جوہری بم گرائے جانے کی یاد منانے کے لیے ہزاروں افراد نے گھنٹیاں بجنے کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، اس حملے میں 74,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تین روز قبل اسی طرح کی ایک تقریب ہیروشیما پر ہونے والے جوہری حملے کے یاد میں منعقد کی گئی تھی جس میں تقریباً 140,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاپان کے وزیر اعظم شنزے ایبی نے ناگاساکی میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی جس میں امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی سمیت 75 ملکوں کے نمائندے موجود تھے۔

جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ ’’جنگ میں صرف ایک ملک (جاپان) پر جوہری بم سے حملہ کیا گیا۔ میں جوہری اسلحہ کی تخفیف کی عالمی کوششوں کی قیادت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں تاکہ ایسے ہتھیاروں سے پاک دنیا بنائی جا سکے۔‘‘

XS
SM
MD
LG