رسائی کے لنکس

logo-print

جنسی زیادتی کے مرتکب پادریوں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے: پوپ فرانسس


ویٹکن: پوپ فرانسس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

پوپ فرانسس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب پادریوں کے خلاف سخت اقدامات اختیار کئے جائیں گے۔

پوپ نے یہ بات ویٹکن سٹی میں ’’بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی‘‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔

پوپ فرانسس نے مختلف ملکوں میں پادریوں کے خلاف جنسی سکینڈلز سامنے آنے کے بعد دنیا بھر سے کیتھلک رہنماؤں کو اس چار روزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ امریکہ، آئرلینڈ، چلی، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پادریوں کی طرف سے بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے بہت سے واقعات سامنے آئے ہیں جو چرچ کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

کانفرنس میں شامل بشپس اور دیگر مسیحی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے پوپ کا کہنا تھا کہ چرچ سے وابستہ افراد کی طرف سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آنے کے بعد وہ اُن سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ہدف بننے والے چھوٹے بچوں کی چیخ و پکار سنیں اور اُنہیں انصاف فراہم کریں۔

پوپ کا کہنا تھا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچے محض مذمتی بیانات کے بجائے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ویٹکن آڈیٹوریم میں جاری اس کانفرنس کے پہلے روز جمعرات کے دن پوپ فرانسس اور 200کے لگ بھگ شرکا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے پانچ بچوں کے بارے میں ویڈیو دیکھی۔ ان بچوں نے اپنا نام ظاہر نا کرنے کی درخواست کی تھی۔ ویڈیو میں اُنہوں نے اُن سے ہونے والی زیادتی اور پھر اسے چھپائے جانے کی داستانیں بیان کیں۔

ایک 15 سالہ بچی نے ویڈیو میں بتایا کہ ایک پادری نے اُس کے ساتھ جنسی تعلقات روا رکھے جو 13 برس تک جاری رہے۔ اُس نے بتایا کہ وہ تین مرتبہ حاملہ ہوئیں اور تینوں بار پادری نے اُس کی ’ابارشن‘ کرائی۔

چلی سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کا کہنا تھا کہ جب اُس نے اُس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں چرچ کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تو اسے جھوٹا اور چرچ کا دشمن قرار دے دیا گیا۔

پوپ نے اپنی تقریر میں چرچ سے وابستہ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ روحوں کے معالج ہیں۔ لیکن استثنائی کیفیتوں میں کچھ لوگ روحوں اور عقیدے کے قاتل بن جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا تضاد ہے۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG