رسائی کے لنکس

logo-print

بجلی کے بحران پر 24گھنٹے میں قابو پایا جائے، صدر زرداری کی ہدایت


سینیٹ میں مسلم لیگ ق کے رکن کامل علی آغا نے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر بجلی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو ق لیگ حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے گی

پاکستان کےصدرآصف علی زرداری نے چوبیس گھنٹے میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کی ہدایت جاری کی ہے۔صدرکا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ پرقابونہ پایاگیاتوذمے داروں کونتائج کاسامناکرناہوگا۔

ملک میں طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی بھی حکومت کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ جمعرات کو جہاں ملک کی سڑکوں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مختلف علاقوں بالخصوص پنجاب میں پرتشدد احتجاج جاری رہا وہیں سینیٹ میں بھی حکمراں اتحاد میں سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ق نے اس معاملے پر حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی۔

سینیٹ میں مسلم لیگ ق کے رکن کامل علی آغا نے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر بجلی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو ق لیگ حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے گی۔ اس پر چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری اور ان کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعدازاں جہانگیر بدر نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی وزیر جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

ادھر دوسری اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی بجلی کے بحران پر اظہار تشویش کیا اور صدر اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں صدر آصف علی زرداری نے بجلی بحران کا سخت نوٹس لیا اور تمام تر مصروفیات معطل کر کے ایوان صدر میں اہم اجلاس طلب کرلیا۔ایوان صدر اسلام آبادمیں صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے اہم اجلاس ہواجس میں وفاقی وزیربرائے پانی وبجلی سید نویدقمر،وزیرپیٹرولیم عاصم حسین اور واپڈاحکام نے شرکت کی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق توانائی بحران پرصدرآصف زرداری نے متعلقہ اداروں کی سرزنش کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چوبیس گھنٹے میں بجلی بحران پرقابوپایا جائے۔ صدرنے کہاکہ لوڈشیڈنگ پرقابونہ پایاگیاتوذمے اروں کونتائج کا سامنا کرناہوگا۔صدرزرداری نے ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے شارٹ ،لانگ اور مڈٹرم منصوبہ بندی کی جائے۔

XS
SM
MD
LG