رسائی کے لنکس

logo-print

کیا بلاول کا سندھ کارڈ یا بھٹو کارڈ چل سکتا ہے؟


پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن سابق وزیرِ اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیٹی سابق وزیرِ اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو اور ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر کا پلےکارڈ اٹھائے ہوئے ہیں۔ 13 اگست 2018۔

گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ کے مفادات اور اعتراضات ردی کی ٹوکری میں پھینکے جا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ سابق وزیراعظم مقتول بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی کے موقع پر جارحانہ خطاب میں حکومت اور بظاہر ریاست کے اداروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سندھ کے مفادات اور بھٹو خاندان کا جس انداز میں حوالہ دیا ہے، بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک وہ واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ یہ دونوں کارڈ ایسے میں استعمال کرسکتے ہیں جب ان کے والد سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے بعد بظاہر گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ کیا آج بھی سندھ کارڈ یا بھٹو کارڈ پیپلزپارٹی کی سیاست میں فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

گڑھی خدا بخش میں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے مفادات اور اعتراضات ردی کی ٹوکری میں پھینکے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں سیلیکٹڈ قرار دیا اور بظاہر مقتدر اداروں کو بھی چیلنچ کیا۔

’’تمام قوتوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تم اور تمھاری سازشوں سے تمھارے جھوٹ سے لڑوں گا۔ تمھارے غرور کو تار تار کر دوں گا۔‘‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے اپنے وڈیو بلاگ میں کہا ہے کہ احتساب کی زد میں آئی پیپلزپارٹی کی قیادت بھٹو کارڈ استعمال کرتی نظر آ رہی ہے۔

کیا روایتی طور پر کارگر ثابت ہونے والا سندھ کارڈ آج بھی موثر ہو سکتا ہے، واشنگٹن میں مقیم سینئر صحافی اور تجزیہ کار انور اقبال کے خیال میں ایسا ممکن ہے۔ پاکستان کے ادارے پاکستان نہ کھپے کے نعرے کا بوجھ شاید ابھی نہیں اٹھا سکتے۔

’’ اگر پیپلز پارٹی کوئی تحریک چلاتی ہے تو اسے سندھ کی حد تک تو ضرور پذیرائی ملے گی۔ اگر یہ نعرے لگ جاتے ہیں کہ پاکستان نہ کھپے تو اداروں کو سوچنا پڑے گا اور جاری احتساب کا عمل ڈھیلا پڑ سکتا ہے‘‘

چیرمین نیشنل ڈیموکریٹک فاونڈیشن، سابق سیکریٹری الیکشن کمشن اور سیاسی مبصر کنور دلشاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ ’’سندھ میں بڑے شہروں میں پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیوایم کی اکثریت ہے۔ اندرون سندھ کا عام آدمی بھی کم از کم کرپشن کے معاملات پر کسی بڑے احتجاج کے موڈ میں نظر نہیں آتا‘‘

وہ کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ مل کر بھی عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام ہیں۔

رضا رومی امریکہ میں مقیم پالیسی اینالسٹ ہیں۔ شعبہ تدریس اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سندھ کارڈ اب بھی اہم کارڈ ہے لیکن پیپلزپارٹی ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراو میں جانے سے گریز کرے گی کیونکہ اس کی قیمت سندھ حکومت کے خاتمے کی صورت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ رضا رومی کے بقول سابق صدر زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف مقدمات سنگین ہیں جن سے بچ نکلنا آسان نہ ہو گا۔

بدعنونی کے مقدمات میں اگر پی پی پی کی قیادت کو سزائیں ہو جاتی ہیں تو کیا اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے اندر سے لوگ منحرف ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب انور اقبال نفی میں دیتے ہیں۔

’’پیپلزپارٹی کو پہلے انحراف سے فرق پڑا نہ اب پڑے گا۔ مسلم لیگ نواز بھی جڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کو اس لیے ووٹ نہیں پڑتے کہ اس کی کارکردگی بہت شاندار ہے، اس لیے پڑتے ہیں کہ عام سندھی اس پارٹی کو اپنا بہتر نمائندہ خیال کرتے ہیں۔‘‘

کنور محمد دلشاد کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

بلاول بھٹو سندھ اور بھٹو کارڈ کو لہراتے ہوئے اپنے والد اور پارٹی کے شریک چیرمین کے لیے کس حد تک رعایت حاصل کر سکتے ہیں، رضا رومی کے بقول اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG