رسائی کے لنکس

بینظیر قتل کیس: فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی ہائی کورٹ پہنچ گئی


سابق وزیرِاعظم کی ایک فائل فوٹو

لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمے میں جن ملزمان کو بری کیا گیا ہے انہیں سزائے موت دی جائے جب کہ پرویز مشرف کو بھی ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی جائے۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ان کے شوہر اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے توسط سے ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کردی ہیں۔

سابق صدر نے ایک اپیل مقدمے میں مفرور ملزم پرویز مشرف، دوسری مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان کی بریت اور تیسری دو پولیس افسران کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف دائر کی ہیں۔

یہ اپیلیں آصف علی زرداری کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے پیر کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں دائر کیں۔

تینوں اپیلوں میں مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو سزائے موت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اپیلیں جمع کرانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹوکو دھمکیاں دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی ای میل میں واضح طور پر لکھا تھا کہ انہیں پرویز مشرف کی جانب سے جان کا خطرہ ہے اور اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار پرویز مشرف ہوگا۔

لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ اس وقت کی حکومت نے بینظیر بھٹو کی سکیورٹی ختم کردی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِاعظم کو پوائنٹ بلینک رینج سے گولی ماری گئی اور سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث ہی وہ اس گولی کا شکار ہوئی تھیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمے میں جن ملزمان کو بری کیا گیا ہے انہیں سزائے موت دی جائے جب کہ پرویز مشرف کو بھی ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی جائے۔

لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ ان کی استدعا ہے کہ بری ہونے والے پانچوں ملزمان کا دوبارہ ٹرائل کیا جائے جب کہ اس کے علاوہ پولیس افسر سعود عزیز کو بھی سکیورٹی توڑنے پر سزائے موت سنائی جائے۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گزشتہ ماہ مقدمے کے پانچوں مرکزی ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر نے کا حکم دیا تھا۔

بری ہونے والے ملزمان میں رفاقت حسین، حسنین گل، عبدالرشید، اعتزاز شاہ اور شیر زمان شامل ہیں جنہیں عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد اڈیالہ جیل میں نظر بند کردیا گیا تھا۔

عدالت نے دو پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد کو دو مختلف دفعات کے تحت 17 ،17 سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا بھی دی تھی۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد اس وقت کے صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ داخلِ دفتر کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG