رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کا لیاری میں جلسہ


آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جلسہ ان کی اگلے انتخابات کی مہم کا نکتۂ آغاز ہے۔

صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار کو کراچی میں جلسہ کیا جس سے پارٹی کے شریک سربراہ اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا۔

جلسے کا انعقاد کراچی میں پیپلز پارٹی کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں کیا گیا۔

جلسے سے آصف علی زرداری کے علاوہ وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاھ، پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جلسہ ان کی اگلے انتخابات کی مہم کا نکتۂ آغاز ہے۔

سابق صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو سیاست کی نذر ہونے نہیں دیا جائے گا اور ان منصوبوں میں سب کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔

جلسے کی سیکیورٹی کے لیے جلسہ گاہ کے اندر اور سخت حفاظتی انتظامی کیے گئے تھے جب کہ ارد گرد کی عمارتوں پر پولیس کے ماہر نشانے باز اور بم ڈسپوزل کے اہلکار بھی تعینات تھے۔

پاکستان کا سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی ایک طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف شہر میں رینجرز اور پولیس کا آ پریشن بھی جاری ہے۔

دہشت گردی کے خدشات اور خطرات کے باوجود شہر میں پچھلے چند ہفتوں سے سیاسی گہماگہمی اور سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ گزشتہ ہفتے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 246 کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران بھی شہر میں متحدہ قومی موومنٹ، تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے جلسے ہوئے تھے۔

ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی جس کا جشن ایم کیو ایم تاحال پارٹی کے صدر دفتر 'نائن زیرو' کے نزدیک واقع جناح گراؤنڈ میں منا رہی ہے۔

صوبہ سنندھ اور بالخصوص کراچی کی سیاسی صورتحال کے بارے میں 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ جو انتخابی صورتحال سامنے آ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نئی طاقت بن کر ابھری ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ بھی اپنے روایتی حلقوں میں مضبوط ہو رہی ہے لیکن اسے اس مقبولیت کے لیے پھر سے "مہاجر" کا نعرہ لگانا پڑا ہے۔

ڈاکٹر ہما بقائی کا کہنا تھا کہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جلسہ اس بات کا عکاس ہے کہ پی پی پی کو احساس ہے کہ وہ شہر میں کمزور پڑ رہی ہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق ہفتے کو ملک بھر کنٹونمنٹ بورڈز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں صوبہ سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ کامیاب جماعت بن کر ابھری تھی جب کہ پی پی پی کے بیشتر امیدواروں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

XS
SM
MD
LG