رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں لسانیت کی سیاست؟


کراچی میونسپل کارپوریشن کی عمارت

انور سیال کے بیان سے جہاں سندھ کی سیاست میں ہلچل سی مچ گئی وہیں دوسری طرف سب کی توجہ مسائل سے ہٹ کر ایک بار پھر لسانیت پر مرکوز ہوگئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تقریباً دوہائیوں سے ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تعلقات کم و بیش اسی تناظر میں چلتے چلے آرہے ہیں مفادات کا حصول ہو تو دونوں پارٹیوں کے تعلقات میں گرم جوشی نظر آتی ہے۔ اور اگر مفادات کا ٹکراو ہو تو یہ اتحاد ایک یکدم مخالفت میں بدل جاتا ہے۔
کبھی ایم کیو ایم کی جانب سے مہاجر صوبے کا نعرہ اور مہاجر کارڈ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی پیپلز پارٹی سندھ قوم پرستی کانعرہ لگاتے ہوے قومی سے زیادہ علاقائی و لسانی سیاست اپنا لیتی ہے۔
موجودہ صورتحال پر وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ انور سیال نے بیان جان بوجھ کر منصوبہ بندی کے تحت دیا یہ کوئی جذباتی بیان نہیں پیپلز پارٹی ہمیشہ مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے ہی ہھتکنڈے استعمال کرتی رہی ہے ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔
فیصل سبز واری کا کہا کہنا تھا کہ سب کو سب پتہ ہے کہ کون کس کو پال رہا ہے انورسیال کا بیان حقائق کے برخلاف ہے بجٹ اور ریونیو کے دستاویزات ثابت کرتے ہیں کے سندھ کا چھیاسی فیصد ریونیو کراچی سے حاصل ہوتا ہے انور سیال نے ایوان میں بات کی اور ایم کیو ایم نے ایوان میں اس کا بھر پور جواب دیا۔ ایم کیو ایم پاکستان یہ معاملہ سڑکوں پر نہیں لانا چاہتی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی کہتے ہیں انور سیال نے خود سےکوئی بیان نہیں دیا بلکہ ایوان میں ایم کیو ایم کے رہنما محمد حسین کی تقریر کا جواب دیا تھا جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ سندھ اور سندھیوں کو کراچی پال رہا ہے۔
وقار مہدی کا کہنا تھا ایوان میں کسی بھی سطح پر دونوں پارٹی رہنماؤں کو اس اس قسم کی گفتگو اور بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی مہاجر قوم کی قربانیوں اور سندھ اور پاکستان کی ترقی میں مہاجر کمیونٹی کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے بیان میں اس کی وضاحت کردی ہے۔
وقار مہدی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں بلاول بھٹو زرداری کی وضاحت کے بعد اس معاملے۔ کو ختم کر دینا چاہیے اور ہمارے ایم کیوایم کے دوستوں کو گلے شکوے بھلا کر سندھ اورکراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا چاہیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات نے ثابت کیا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقے ہوں یا شہری، ووٹر اب الزامات اور لسانیت کی سیاست کے بجائے تعمیر و ترقی میں مقابلے کی سیاست دیکھنا چاہتے ہیں مگر سندھ کی دو بڑی پارٹیوں کی جانب سے موجودہ طرز سیاست میں یہ صرف ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG