رسائی کے لنکس

logo-print

صدر نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کردیے


صدر آصف علی زرداری اٹھارویں آئینی ترمیم پر دستخط کرتے ہوئے

پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے پیر کے روز اٹھارویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد یہ ترمیم ملکی دستور کا حصہ بن گئی ہے۔

اس سلسلے میں ایوان صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب کی ایک قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین سے غیر جمہوری شقوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور اب ان کے مطابق آمرانہ قوتیں دستور کو پامال نہیں کرسکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم جیسی تاریخی کامیابی کے بعد اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ عوام کو درپیش بجلی کے بحران،مہنگائی، بے روز گاری اور امن وامان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

صدر نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں حکومت کا اسی طرح ساتھ دیں جس طرح انھوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری میں دیا ۔

واضح رہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبہ سرحد خیبر پختون خواہ کہلائے گا، صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہوگا جب کہ مسلح افواج کے سربراہان کا تقرر بھی وہ وزیراعظم کی مشاورت سے ہی کریں گے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جہاں ملک کے سیاسی حلقوں میں جمہوریت کے فروغ، پارلیمان کی بالادستی اور اداروں کی مضبوطی کے تناظر میں بے مثال پیش رفت قرار دیا جارہا ہے وہیں وکلاء برادری کی طرف سے اس پر تنقید بھی سامنے آرہی ہے جو یہ الزام عائد کرتی ہے کہ پارلیمان نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے ترمیم میں ایسی شقوں کو شامل کیا ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مجروح کرتی ہیں۔


قانونی ماہرین یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے عمل میں حکومتی نمائندوں کو شامل کرنا عدلیہ کی آزادی کو صلب کرنے کی کوشش ہے۔

XS
SM
MD
LG