رسائی کے لنکس

صدر ممنون حسین نے ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس جاری کر دیا


صدر ممنون حسین۔ فائل فوٹو

حکومت کو اتوار کو ہی اس آرڈیننس کا اجرا کرنا تھا کیونکہ پیر کے روز سے سینیٹ کے اجلاس کا آغاز ہورہا ہے جس کے بعد آرڈیننس کا اجرا ممکن نہ تھا اور حکومت کو یہ اسکیم بل کی صورت میں پارلیمان میں لانا پڑتا۔

پاکستان میں صدر مملکت ممنون حسین نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس جاری کردیا ہے۔

حکومت کو اتوار کو ہی اس آرڈیننس کا اجرا کرنا تھا کیونکہ پیر کے روز سے سینیٹ کے اجلاس کا آغاز ہورہا ہے جس کے بعد آرڈیننس کا اجرا ممکن نہ تھا اور حکومت کو یہ اسکیم بل کی صورت میں پارلیمان میں لانا پڑتا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 5 اپریل کو پریس کانفرنس کے ذریعے ٹیکس اصلاحات اور ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس میں سالانہ 12 سے 24 لاکھ روپے آمدن پر 5 فیصد ، سالانہ 24 سے 48 لاکھ روپے آمدن پر 10 فیصد اور سالانہ 48 لاکھ سے زائد آمدن پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب کہ سالانہ 12 لاکھ روپے آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا تھا کہ سیاسی لوگ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے تاہم جو ٹیکس ایمنسٹی حاصل کرے گا وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آئے گا اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے 30 جون تک فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ یہ اسکیم کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے اثاثے باہر ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ بھر کر ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اوراس اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے قانون کی گرفت میں آجائیں گے۔ آف شور کمپنی بھی اثاثہ ہے۔ اس کو بھی ڈیکلیئر کرنا ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جس کے پاس شناختی کارڈ نمبر ہوگا وہی این ٹی این نمبر بھی ہوگا۔ جو لوگ ٹیکس ادانہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں جبکہ ٹیکس وصولیوں کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے جائیداد کی ڈکلیئرڈ ویلیو مارکیٹ ویلیو کے برابر ظاہر نہیں کی تو حکومت اس جائیداد کو خریدنے کا حق محفوظ رکھے گی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی ان اثاثوں کے لیے ہے جو ظاہر نہیں کئے گئے۔ توقع ہے کہ اسکیم کے بعد پاکستان میں 3 کروڑ افراد ٹیکس دہندہ ہوں گے۔

وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مسترد کرچکی ہیں۔ان دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے لوٹی گئی دولت کو جائز بنایا جارہا ہے جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی جبکہ حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ایسی ایمنسٹی اسکیم کا عمران خان خود پہلے ہی فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG