رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما دو روزہ دورے پر ارجنٹائن پہنچ گئے


صدر اوباما کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جمعرات کو ارجنٹائن کی اس ظالمانہ فوجی بغاوت کو چالیس سال مکمل ہو رہے ہیں جس کے باعث لگ بھگ 30 ہزار افراد یا تو مارے گئے یا لاپتا ہوگئے تھے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما دو روزہ پر ارجنٹائن پہنچے ہیں۔ یہ دورہ جہاں ایک طرف اقتصادی مشکلات کے شکار اس ملک کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی کو ظاہر کرتا ہے وہیں یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب ارجنٹائن میں امریکی حمایت سے ہونے والی بغاوت کی چالیسویں برسی بھی منائی جا رہی ہے۔

صدر اوباما کیوبا کے تاریخی دورے کے بعد بدھ کو نصف شب کے قریب دارالحکومت بیونس آئرس پہنچے۔ خاتون اول مشیل اوباما اور دونوں بیٹیوں کے علاوہ خوشدامن بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

امریکی صدر بدھ کو ارجنٹائن کے نئے صدر ماؤریسیو ماکری سے ملاقات کریں گے جو کہ واشنگٹن کے ساتھ اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔

لیکن صدر اوباما کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جمعرات کو ارجنٹائن کی اس ظالمانہ فوجی بغاوت کو چالیس سال مکمل ہو رہے ہیں جس کے باعث لگ بھگ 30 ہزار افراد یا تو مارے گئے یا لاپتا ہو گئے تھے۔

امریکی صدر جمعرات کو ان متاثرین کی یاد میں بنائے گئے پارک جانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ایسی امریکی دستاویزات جو کہ اب خفیہ نہیں رہیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود ارجنٹائن کی فوجی حکومت کی حمایت کی تھی۔

گزشتہ ہفتے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ارجنٹائن کی حکومت کی ایما پر فوجی ایسی مزید فوجی اور انٹیلی جنس دستاویزات جاری کرے گی جو کہ 1976ء سے 1983ء تک جاری رہنے والی ارجنٹائن کے بقول "غلیظ جنگ" سے متعلق ہیں۔

امریکی صدر کے اس دورے کے بعض مخالفین اس موقع پر احتجاج کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ ماضی میں ناقدین امریکہ سے فوجی حکومت کی حمایت کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG