رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا پہنچ گئے


آسیان کانفرنس میں شرکت کرنے والے زیادہ تر رہنما فلپائن سے آرہے ہیں جہاں انہوں نے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون کی تنظیم 'آیپک' کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

صدر براک اوباما جمعہ کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور پہنچے جہاں وہ علاقائی رہنماؤں کے ایک اجلاس میں شرکت کریں گے جس کا محور اقتصادی معاملات، دہشت گردی اور علاقائی تنازعات ہے۔

صدر اوباما 10 جنوب مشرقی ایشائی ممالک کی تنظیم 'آسیان' اور دوسرے عالمی رہنماؤں کے ساتھ سال میں دو بار ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں شرکت کے لیے یہاں آئے ہیں۔

داعش کی طرف سے گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے مہلک حملوں کے بعد کوالالمپور میں دہشت گردی کے خطرے کی اطلاعات کے پیش نظر شہر بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ملائیشیا کی پولیس کے سربراہ خالد ابو بکر نے جمعہ کو کہا کہ (دہشت گردوں کی طرف سے) اطلاعات غیر مصدقہ ہیں تاہم عہدیداروں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ضرورت کے پیش نظر ہزاروں کی تعداد میں فوجی اہلکاروں کوتعینات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تیار رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

آسیان کانفرنس میں شرکت کرنے والے زیادہ تر رہنما فلپائن سے آرہے ہیں جہاں انہوں نے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون کی تنظیم 'آیپک' کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

دونوں اجلاسوں میں عام طور پر اقتصادی امور پر بحث کی جاتی ہے تاہم پیرس میں ہونے والے حملوں، جن میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے، کی وجہ سے توجہ دپشت گردی سے نمٹنے کی عالمی کوشش کو طرف مرکوز ہو گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیدارو ں کے مطابق منیلا کی طرح صدر اوباما آسیان تنظیم کے اجلاس کے دوران بھی چین کے اپنے ہمساؤں کے ساتھ علاقائی تنازع کا معاملہ اٹھائیں گے۔

صدر اوباما نے اس ہفتے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں کی متنازع تعمیرات کو روک دے جس پر دوسرے ممالک بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔

دوسری طرف چین اس معاملے کو اس طرح کی علاقائی اجلاس میں اٹھانے پر معترض ہوتا ہے اور اس کی بجائے ہر ایک فریق سے الگ الگ معاملہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس طرح اس کو بات چیت میں زیادہ سہولت رہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG