رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق کانفرنس سے خطاب کریں گے


وائٹ ہاؤس کے مطابق ’’گلیئشیر‘‘ نامی اس کانفرنس کا مقصد عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے سے قطب شمالی پر ہونے والے اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔

صدر اوباما پیر کو الاسکا جائیں گے جہاں وہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت گے۔

اس کانفرنس میں وہ امریکی اور غیر ملکی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ سائنسندان اور مقامی افراد سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے قطب شمالی پر ہونے والے اثرات سے متعلق بات چیت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ’’گلیئشیر‘‘ نامی اس کانفرنس کا مقصد عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے سے قطب شمالی پر ہونے والے اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے، کہ کس طرح اس سارے معاملے کے دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ مسئلہ صدر اوباما کے ہفتہ وار خطاب کا بھی موضوع تھا جس میں انہوں نے کہا کہ الاسکا کے رہنے والوں کو وسیع پیمانے پر پھیلنے والی جنگل کی آگ، گلیئشیر کے پگھلنے اور ساحل کے کناروں کی بڑی تیزی سے ہونے والی شکست و ریخت اور سمندری برف کے پگھلنے سے بڑے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیر کو ہونے والی کانفرنس کا انعقاد امریکہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔

اس کانفرنس کے دوران ہونے والے مختلف اجلاسوں میں سائنس کے شعبے میں تعاون، قابل تجدید ذرائع سے توانائی کے حصول، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو مضبوط کرنے اور بحیرہ قطب شمالی میں غیر منظم ماہی گیری کو روکنے سے متعلق بات چیت ہو گی۔

صدر اوباما نے ہفتے کو کہا کہ وہ الاسکا کے مکینوں سے ملاقات میں اس بارے میں بات کریں گے کہ (ان کا ) ملک کس طرح ماحولیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی قیادت کر سکتا ہے۔

سائنسدان متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر عالمی درجہ حرارت کو دو درجے سیلسیں زیادہ بڑھنے دیا گیا تو یہ غیر معمولی موسمی تغیر اور سمندری سطح کے بلند ہونے کا سبب بنے گا جس سے دنیا بھر کی آبادی متاثر ہو گی۔

اقوام متحدہ کے تحت 30 نومبر کو پیرس میں شروع ہونے والے مذاکرات دو ہفتوں تک جاری رہیں گے جن کا مقصد ایک ایسے منصوبے کی تشکیل ہے جس کے تحت درجہ حرارت کو ایسی سطح پر لانا ہے، جس کے اثرات سے آسانی سے نمٹا جا سکے۔

کانفرنس میں اس مقصد کے لیے ہر ملک کے لیے ایک مخصوص ہدف مقرر کیا جائے گا، اور اگر اس منصبوبے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس پر 2020 سے عملدآمد شروع ہو جائے گا۔

صدر اوباما نے اس سال ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں اپنی توجہ بڑھا دی ہے جس میں مجوزہ پالیسیوں کی تیاری بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اگست کے اوائل میں ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پاور پلانٹس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو 2005 کی سطح سے 32 فیصد کم کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ متبادل ذرائع سے توانائی کی پیدوار میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے۔

عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے کی کوششوں میں کاربن کے اخراج کو کم کرنا سب سے بڑا ہدف ہے۔

XS
SM
MD
LG