رسائی کے لنکس

logo-print

'صحت کے اخراجات اٹھانے سے قاصر تارکین وطن امریکہ نہ آئیں'


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ جس کے تحت صحت کے اخراجات اٹھانے سے قاصر تارکین وطن کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو نئے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق سیاسی پناہ کے خواہش مند اور پناہ گزینوں کا درجہ رکھنے والے افراد پر اس حکم نامے کا اطلاق نہیں ہو گا۔

عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے ہی صدر ٹرمپ نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی اخیتار کر رکھی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 2020 میں صرف 18 ہزار پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دے گی۔ پناہ گزینوں کی آباد کاری کے جدید پروگرام کی یہ سب سے کم تعداد ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد بغیر معاوضہ ادا کیے صحت کی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں جس سے صحت عامہ کا شعبہ مختلف مسائل سے دوچار ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی صرف ان تارکین وطن پر لاگو ہو گی جو امیگرنٹ ویزا کے ذریعے امریکہ آنا چاہتے ہیں۔ جب کہ اس پابندی کا اطلاق 3 نومبر سے ہو گا۔

غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق صدر ٹرمپ سخت موقف رکھتے ہیں۔
غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق صدر ٹرمپ سخت موقف رکھتے ہیں۔

حکم نامے کے تحت امریکہ میں 30 روز کے اندر میڈیکل انشورنس حاصل کرنے یا صحت کے اخراجات خود برداشت نہ کرنے والے افراد کو امریکہ میں قیام کی اجازت نہیں ہو گی۔

غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق امریکی پالیسی

یاد رہے کہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے ذریعے جنوبی امریکہ سے ہزاروں خاندان امریکہ میں پناہ لینے کے خواہش مند ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ امریکہ میں پناہ گزینوں کا داخلہ روکنے کو اپنی پالیسی کا محور سمجھتے ہیں۔

غیر قانونی تارکینِ وطن کی امریکہ آمد روکنا صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا۔

امریکی حکام کے پاس اس وقت پناہ گزینوں کی لاکھوں درخواستیں زیر التوا ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

امریکہ میں پناہ لینے والوں کی تعداد کی منظوری صدر دیتے ہیں اور صدر ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد نئے پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG