رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے دورۂ جاپان میں شمالی کوریا کا مسئلہ سرِ فہرست


جاپانی وزیرِ اعظم کے صدر ٹرمپ کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں (فائل فوٹو)

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ امریکہ کے اہم اتحادی ملک جاپان کا دورہ کریں گے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ 25 سے 28 مئی تک جاپان میں ہوں گے جہاں وہ جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ایبے کے ساتھ کئی ملاقاتیں کریں گے۔

بیان کے مطابق سربراہی ملاقات کے ایجنڈے میں شمالی کوریا کا معاملہ بھی شامل ہو گا اور دونوں رہنما جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل پاک کرنے کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

جاپان شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ کے حالیہ روابط کی حمایت کرتا آیا ہے لیکن جاپانی وزیرِ اعظم کا اصرار رہا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا پر سے اس وقت تک اقتصادی پابندیاں نہ اٹھائے جب تک پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیار مکمل طور پر ترک نہ کر دے۔

جاپانی وزیرِ اعظم کے صدر ٹرمپ کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں رہنما تواتر سے ایک دوسرے سے ملاقاتیں اور ٹیلی فون پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔

ان تعلقات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب جاپانی وزیرِ اعظم نے پروٹوکول کے برخلاف 2016ء میں امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد حلف اٹھانے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک میں واقع ان کی رہائش گاہ جا کر ملاقات کی تھی۔

صدر ٹرمپ کے آئندہ ماہ دورۂ جاپان سے قبل وزیرِ اعظم شنزو ایبے رواں ہفتے واشنگٹن کا دورہ بھی کریں گے جہاں ان کی امریکی صدر سے ملاقات طے ہے۔

جاپان رواں سال جون میں دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی نمائندہ تنظیم 'جی 20' کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس سے قبل جاپانی وزیرِ اعظم فرانس، اٹلی، سلوواکیہ، بیلجیم، امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کریں گے۔

لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا صدر ٹرمپ مئی میں جاپان کا دورہ کرنے کے بعد جون میں جی- 20 اجلاس میں شرکت کے لیے دوبارہ جاپان جائیں گے یا نہیں۔

جاپانی حکومت کے چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشی ہائید سوگا کے مطابق صدر ٹرمپ وہ پہلے غیر ملکی سربراہِ مملکت ہوں گے جن کی جاپان کے نئے بادشاہ میزبانی کریں گے۔

جاپان کے موجودہ بادشاہ ایکی ہیتو رواں ماہ کے اختتام پر بادشاہت سے دستبردار ہو جائیں گے جس کے بعد ان کے صاحبزادے اور ولی عہد نارو ہیتو یکم مئی کو ملک کے نئے بادشاہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG