رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: نئے میڈیا قانون کا مسودہ حکومت نے واپس لے لیا


طلوع کا نیوز روم (فائل)

افغانستان کی حکومت میڈیا قوانین میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، ملکی صحافیوں کا خیال ہے کہ انکا مقصد آزاد صحافت پر مزید پابندیاں لگانا ہے۔

میڈیا قوانین میں ترمیم کی خبروں پر صحافیوں کی شدید تشویش کے بعد صدارتی محل سے اعلان کیا گیا کہ نئے مسودہ قانون کو واپس لیا جا رہا ہے۔ حکومت نیوز میڈیا سے مشاورت کے بعد نئے قانون کو لے کر آئے گی۔

افغانستان کے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے دس سال پہلے میڈیا کے قوانین بنائے گئے تھے۔ مگر اب بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر حکومت چاہتی ہے کہ وہ ان قوانین میں ترامیم لائے۔

صحافیوں کا خیال ہے کہ اس مجوزہ قانون میں یہ نکتہ شامل ہے کہ میڈیا کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی خبر کے ذریعے کو ظاہر کرے۔ ہو سکتا ہے کہ نئے قانون کے تحت سالانہ میڈیا لائیسنس عدالتوں کے بجائے ایک نئے سپروائزری بورڈ کو تفویض کر دیے جائیں۔

وی اے او کی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے صحافیوں نے بتایا کہ ترمیم شدہ قانون صحافت کی آزادی پر قدغن لگانے کی ایک کوشش ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سے آئین کی چار شقوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

افغان صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ ترامیم کو منسوخ کیا جائے۔ اس کمیٹی کے ڈائریکٹر نجیب شریفی کا کہنا ہے کہ ہم ایک انتہائی حساس دور سے گذر رہے ہیں اور ایسے حالات میں افغان میڈیا کی بچی کھچی آزادی کو قائم رکھنا چاہیے۔ بعض صحافیوں کا خیال ہے کہ وہ اس کو وقت آنے پر چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔

شمشاد ٹی وی کے نیوز ڈائریکٹر، عابد احساس کہتے ہیں کہ بل کے مسودے کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ نہیں بھیجا جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے نازک وقت میں اس بل کے بارے میں کیوں سوچا جا رہا ہے۔

کابل پریس کلب کے ڈائریکٹر، عزیز احمد تاسائی کہتے ہیں کہ ہم قانون میں ترمیم کے حق میں ہیں، مگر اس میں ہماری تجاویز اور مطالبات شامل ہونا چاہیے۔

میڈیا کے حقوق کی ایک تنظیم، این آئی اے کے ڈائریکٹر نجیب خلوتگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بل اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور میڈیا سے متعلق اداروں اور افراد کی رائے معلوم کی جا رہی ہے۔

افغانستان کی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے صحافیوں کی رائے کے بغیر یہ بل نہیں لایا جائے گا۔ ابلاغ عامہ سے متعلق جو بھی ترامیم ہوں گی ان میں خبروں کے اداروں اور صحافیوں کی رائے اور مشورے شامل ہوں گے۔

صدارتی ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ صدر کے علم میں ہے کہ اس مجوزہ بل کے بارے میں صحافیوں کے کیا تحفظات ہیں اور انہوں نے اپنے سٹاف سے کہا ہے کہ وہ میڈیا سے اس بارے میں بات چیت کریں اور ان کی رائے معلوم کریں۔ اپنی کابینہ کے ایک اجلاس میں صدر غنی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے ہماری جیلوں میں ایسا ایک بھی قیدی نہیں جسے اظہار کی آزادی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG