رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ریت مافیا  کی غیر قانونی سرگرمیوں کی رپورٹنگ پر صحافی کا قتل


بھارت میں ریت مافیا غیر قانونی طور پر دریا کی تہہ سے ریت نکال کر تعمیراتی شعبے کو فروخت کرتا ہے جس کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔

بھارت کی ریاست اترپردیش ان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ریاست بن گئی ہے جو غیر قانونی طور پر ریت نکالنے اور تعمیرات کے شعبے میں بے قاعدگیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہندی زبان کے اخبار ڈیلی کامپو میل کے صحافی شوبھام منی ترپاتھی کو 19 جون کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنی موٹرسائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے۔

صحافیوں کے تحٖفط کے لیے کام کرنے والے ایک عالمی گروپ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ ترپاتھی نے اپنی ہلاکت سے کئی دن پہلے انہوں نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ رپورٹنگ کی وجہ سے ان کی زندگی کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

ترپاتھی نے بھارت کے طاقت ور 'ریت مافیا' کی رپورٹنگ کی تھی۔ یہ مافیا دریا کے تہہ میں سے غیر قانونی طور پر ریت نکال کر تعمیراتی شعبے کو فروخت کرتا ہے۔ انہوں نے ایک غیرقانونی تعمیراتی پراجیکٹ پر بھی رپورٹ تیار کی تھی جس کے نتیجے میں نہ صرف پراجیکٹ کے خلاف تحقیقات ہوئیں، بلکہ اسے منہدم بھی کر دیا گیا۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے ایشیا پیسفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیل بسٹرڈ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ریت نکالنے کی صنعت بری طرح کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ کرپشن کا گڑھ ہے۔ اس کا جال دور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پولیس کو بدعنوانی کی راہ پر چلاتا ہے۔ اس نے سیاست دانوں اور کاروباری افراد کو اپنی کرپشن کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے درحقیقت ایک ایسا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

ریت نکالنے کی صنعت، زمین سے کوئی چیز نکالنے کی سب سے انڈسٹری ہے، جو تعمیراتی شعبے کو اس کے لیے استعمال ہونے والا سب سے اہم جزو 'ریت' فراہم کرتی ہے۔ کئی ملکوں نے ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے اس کاروبار کو یا تو محدود کر دیا ہے یا اس کے لیے سخت قواعد اور ضابطے بنائے ہیں۔ سن 2005 کے بعد سے انڈونیشیا کے 20 سے زیادہ جزیرے ریت نکالنے کے باعث سمندر برد ہو چکے ہیں۔

ریت مافیا کی غیر قانونی سرگرومیوں کے خلاف سخت تر ضابطوں اور قوانین کئی پولیس اہل کاروں، سرکاری عہدے داروں اور صحافیوں کی ہلاکتوں کا سبب بن چکے ہیں، جنہوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ بھارت میں کئی صحافی 'ریت مافیا' اور غیر قانونی تعمیرات کی رپورٹنگ کرنے کے نتیجے میں قتل ہو چکے ہیں، جب کہ کئی ایک کو دھمکیاں مل چکی ہیں، جن میں سندھیا رویش شنگر بھی شامل ہیں جنہوں نے ریت مافیا کے بارے میں ایک نیوز ایجنسی کے لیے تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی۔

آر ایس ایف کے بسٹرڈ کہتے ہیں کہ بھارت میں صحافیوں پر حملوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں کئی دیہی علاقوں میں صحافیوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے، خاص طور پر ریاست اترپردیش میں۔

غیرقانونی سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات نے بھارت میں آزادی صحافت کے ریکارڈ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ آر ایس ایف کے 2020 کے لیے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ملکوں کی فہرست میں بھارت کا نمبر 142 واں تھا جو 2016 کی رینکنگ سے 9 درجے تزلی ہے۔

بسٹرڈ کا کہنا ہے کہ یہ تزلی اس بنا ہوئی کہ صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں حکام کا رویہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریت مافیا کے بڑوں کے عموماً پولیس کے سربراہوں سے رابطے ہوتے ہیں اور صحافیوں کے خلاف تشدد کی تحقیقات کو بغیر آگے بڑھائے فائل بند کر دی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG