رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کے شاہی جوڑے کی پاکستان آمد متوقع


شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن۔ فائل فوٹو

برطانیہ کے شاہی خاندان کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اس سال موسم خزاں میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد شاہی خاندان کا کوئی فرد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

برطانیہ کے شاہی محل کینسنگٹن پیلس نے اس دورے کا اعلان ایک ٹویٹ میں کیا۔

ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ دفترِ خارجہ اور کامن ویلتھ آفس کی درخواست پر ڈیوک اینڈ ڈیچز آف کیمبرج رواں سال موسمِ خزاں میں پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ شاہی جوڑے کے دورے سے متعلق مزید تفصیلات سے بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

پاکستان دولتِ مشترکہ کا رکن ہے اور برطانوی شاہی خاندان کے افراد ہر سال دولتِ مشترکہ میں شامل ممالک کا سرکاری دورہ کرتے ہیں۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت شاہی محل کے اس اعلان کا دلی طور پر خیر مقدم کرتے ہیں۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ شاہی جوڑے کا یہ دورہ برطانیہ کے لیے پاکستان کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات ہیں جنھیں مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 1961 میں پاکستان آئی تھیں جبکہ انہوں نے پاکستان کا دوسرا دورہ 36 سال کے بعد سنہ 1997 میں کیا تھا۔

سنہ 2006 کے بعد برطانیہ کے شاہی خاندان کے کسی رکن کا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔

سنہ 2006 میں شہزادہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس اپنی اہلیہ کمیلا پارکر کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔

شہزاد ولیم کی والدہ اور ویلز کی شہزادی لیڈی ڈیانا خیراتی اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آ چکی ہیں۔

پاکستان میں سنہ 2007 کے بعد سے امن و امان کی صورتحال کافی خراب تھی لیکن سکیورٹی فورسز کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد اب سکیورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہے۔

برطانیہ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد پندرہ لاکھ سے زائد ہے اور 270000 برطانوی شہری ہر سال پاکستان آتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG