رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین کی کشتی پر باغیوں کا حملہ


روس نواز باغی

علیحدگی پسند رواں سال اپریل سے سرکاری فورسز کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں مصروف ہیں

یوکرین کی فوج نے کہا ہے کہ روس نواز علیحدگی پسندوں نے دریائے آزوف میں گشت کرنے والی کشتی پر توپ خانے سے حملہ کیا ہے۔

تاحال اس میں ہونے والے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

فوج کے ترجمان آندرے لیسنکو کا کہنا تھا کہ یہ کشتی بحریہ کی تھی جو کہ برف کاٹنے کا کام کرتی تھی۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کشتی پر کتنے لوگ سوار تھے۔

ماریوپول شہر کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری روس نواز باغیوں نے قبول ہے۔ یہ شہر روسی سرحد کے قریب واقع علاقے نووازووسک سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ باغیونے نووازووسک پر قبضہ کر رکھا ہے۔

علیحدگی پسند رواں سال اپریل سے سرکاری فورسز کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اب تک ہونے والی جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں 2600 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن بحریہ کی کسی کشتی پر یہ باغیوں کی طرف سے پہلا حملہ تھا۔

باغیوں نے گزشتہ ہفتے ہی یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے میں دریائے آزوف کے علاقے میں تازہ کارروائیاں شروع کی تھی۔

مغربی ممالک اور امریکہ روس پر یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اس سے باز رہنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کا کہتے آرہے ہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اگر ماسکو باغیوں کی حمایت ترک نہیں کرتا تو اس پر مزید نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

روس مغرب کے الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG