رسائی کے لنکس

logo-print

’جرمن ونگز‘ کے معاون پائلٹ کی صحت کے متعلق تحقیق جاری


’بلڈ ایم سونٹاگ‘ نے خبر دی ہے کہ واقعے کی تحقیق کرنے والوں کو معلوم ہوا ہے کہ 27 سالہ معاون پائلٹ آنڈریاس لوبٹز کو آنکھ کے پردے میں خرابی کے باعث بینائی ختم ہونے کا خدشہ تھا۔

جرمنی کے ایک اخبار کے مطابق خدشہ ہے کہ ’جرمن ونگز‘ فضائی کمپنی کے معاون پائلٹ کو نفسیاتی مسائل کے علاوہ آنکھوں کی بینائی سے متعلق مسائل کا بھی سامنا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس معاون پائلٹ نے ایلپس پہاڑوں پر جان بوجھ کر طیارہ گرایا تھا جس میں عملے کے چھ ارکان سمیت جہاز میں سوار تمام 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مرنے والوں کا تعلق 18 ملکوں سے تھا جن میں 72 کا تعلق جرمنی سے اور 35 کا تعلق اسپین سے تھا۔

’بلڈ ایم سونٹاگ‘ نے خبر دی ہے کہ واقعے کی تحقیق کرنے والوں کو معلوم ہوا ہے کہ 27 سالہ معاون پائلٹ آنڈریاس لوبٹز کو آنکھ کے پردے میں خرابی کے باعث بینائی ختم ہونے کا خدشہ تھا۔

تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ جمعہ کو لوبٹز کے گھر کی تلاشی کے دوران ایسی دستاویزات ملی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے ایک ’’بیماری تھی جس کا مناسب علاج جاری‘‘ تھا۔

اخبار نے یہ خبر بھی دی ہے کہ جرمن معاون پائلٹ کی دوست جس کے ساتھ وہ رہتے تھے حاملہ ہے۔

اس واقعے کی تحقیق کرنے والی ٹیموں نے بتایا ہے کہ انہوں نے جائے حادثہ سے ملنے والی انسانی باقیات کے تجزیے سے ڈی این اے کے 78 مختلف ریشوں کی تشخیص کر لی ہے۔

معاون پائلٹ کا خاندان

لوبٹز کے آبائی شہر مونٹابور میں لوتھرن چرچ کے پادری نے اتوار کو کہا کہ علاقے کے افراد اس کے باوجود کہ اس پر طیارے کو گرانے کا الزام ہے لوبٹز اور اس کے خاندان کے افراد کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مونٹابور کے رہائشیوں کو اس انکشاف سے شدید دھچکا لگا ہے کہ ہے کہ لوبٹر جس نے اسی شہر کے ہوابازی کے کلب سے پہلی مرتبہ جہاز اڑانا سیکھا تھا نے ممکنہ طور پر جان بوجھ کر طیارہ گرایا تھا۔

پادری مائیکل ڈیٹرچ نے کہا کہ ’’ہمارے لیے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ مرنے والوں میں سے واحد فرد جس کا تعلق اس شہر سے ہے اس پر اس المیے کی ذمہ داری کا الزام ہے۔ اگرچہ اس کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی مگر بہت سے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ ہمیں اس کا سامنا کرنا ہو گا۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے مائیکل ڈیٹرچ نے کہا کہ ’’معاون پائلٹ اور اس کے خاندان کا تعلق اس کمیونیٹی سے ہے۔ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں گلے لگاتے ہیں اور ہم اس بات کو نہیں چھپائیں گے۔ ہم اس کے خاندان کی خاص طور پر مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ پادری نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت اس خاندان کے ساتھ کوئی براہ راست رابطہ نہیں مگر ان کے خیال میں ان کو مناسب معاونت مل رہی ہے۔

فرانسیسی تحقیق کاروں نے ابھی اس خاندان سے ’’شرافت کے تقاضے کے تحت اور ان کی تکلیف کا احترام کرتے ہوئے‘‘ پوچھ گچھ نہیں کی۔

اتوار کو اس واقعے میں مرنے والے ایک جاپانی شخص کے خاندان نے فرانسیسی ایلپس پہاڑوں میں مرنے والوں کی یادگار پر حاضری دی اور وہاں پھول چڑھائے اور اگربتیاں جلائیں۔

روم میں پوپ فرانسس نے مرنے والوں کے لیے دعا کی خصوصاً ان 16 جرمن طلباء کے لیے جو ایک اسپین میں تعلیمی دورے کے بعد وطن واپس آ رہے تھے۔

فرانس کے تفتیشی افسروں نے کہا تھا کہ پرواز کے ریکارڈر سے معلوم ہوا ہے کہ پائلٹ کے باہر جانے کے بعد لوبٹز نے کاک پٹ کا دروازہ بند کر دیا تھا اور کئی بار دستک دینے پر بھی نہیں کھولا۔

یہ پرواز اسپین کے شہر بارسیلونا سے جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف جا رہی تھی جب معاون پائلٹ نے پروار کو خود کار نظام سے ہٹا کر 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پہاڑوں پر ٹکرا دیا۔

XS
SM
MD
LG