رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سفیر پر حملہ کرنے والے کے بارے میں تحقیقات جاری


وسطی سئیول پولیس کے سربراہ یون میونگ سیانگ کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے 1999ء اور 2007ء کے درمیان سات مرتبہ شمالی کوریا کا دورہ کیا۔

جنوبی کوریا کی پولیس کا جمعہ کو کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا اور سئیول میں امریکی سفیر پر حملہ کرنے والے شخص کے درمیان ممکنہ رابطوں کے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ 55 سالہ کم کی جونگ کو سفیر مارک لپرٹ کے چہرے اور کلائی کو ایک چاقو سے زخمی کرنے پر ممکنہ طور پر اقدام قتل کے الزامات کا سامنا ہے۔

پیانگ یانگ کے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے اس حملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری فوجی مشقوں کے خلاف "مناسب سزا" اور "مزاحمت کا مظہر" قرار دیا۔

وسطی سئیول پولیس کے سربراہ یون میونگ سیانگ کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے 1999ء اور 2007ء کے درمیان سات مرتبہ شمالی کوریا کا دورہ کیا۔

امریکی سفیر نے جمعرات کو کہا کہ وہ "بہتر محسوس کر رہے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے" اور انھوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ وہ اُن تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اُن سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ سفیر کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے جلد کام شروع کریں گے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب سفیر ایک تقریب میں شریک تھے اور ایک شخص جسے پولیس نے کم کی جونگ کے نام سے شناخت کیا ہے، نے سفیر پر ایک چاقو سے حملہ کیا۔

جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق حملہ آور نے چیختے ہوئے کہا کہ "جنوبی اور شمالی کوریا کو متحد ہونا چاہیے"۔

دونوں کوریائی ممالک کئی دہائیوں سے تقسیم ہیں اور ان کو الگ کرنے والی سرحد پر دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ ہے۔ امریکہ نے شمالی کوریا سے دفاع کے لیے اپنے 28,500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات کیے ہوئے ہیں اور جنوبی کوریا کے کچھ باشندے امریکی موجودگی کو کوریا کے متحدہ ہونے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہائی نے اس حملے کو "جنوبی کوریا اور امریکہ کے اتحاد پر حملہ قرار دیا"۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نوہ کوانگ ال نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت سفارت کاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

XS
SM
MD
LG