رسائی کے لنکس

'غیرت کے نام پر قتل کے اسباب کی سائنسی بنیادوں پر کھوج لگانے کی کوشش'


قومی کمشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان (فائل فوٹو)

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ایک سنگین جرم ہے اور اس کی عوامی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کمیشن کے چیئرمین سابق جسٹس علی نواز چوہان نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دے کر انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

انہوں نے اسلام آباد کے مضافات میں واقع نیلور گاؤں میں ایک لڑکی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کرنے کے واقعہ میں ملوث شخص کے خلاف درج مقدمہ میں غیرت کے نام پر قتل کے قانون کی دفعات کو شامل کرنے کی ہدایت بھی ہے تاکہ اس مقدمے میں ملوث شخص لڑکی کے ورثا کے ساتھ صلح کر کے سزا سے نا بچ سکے۔

اس لڑکی کو اس کے ایک چچازاد بھائی نے اس بنا پر فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا کہ وہ ایک لڑکے کے ساتھ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کا تعلق ان کے خاندان سے نہیں تھا۔

ماضی میں مروجہ قوانین کے مطابق ایسے واقعات میں ملوث افراد کے ورثا کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ قاتل کو معاف کر سکتے ہیں اور اسی قانونی سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر مجرم سزا سے بچ جاتے تھے۔

حالیوں مہینوں میں پاکستان میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے جں میں غیرت کے نام پر متعدد خواتین کو قتل کر دیا گیا۔

علی نواز چوہان نے کہا کہ ان واقعات میں اضافہ اس لیے دیکھنے میں آ رہا ہےکیونکہ ماضی کی نسبت اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہور ہے ہیں۔

"ہمیں اس لیے ان واقعات کے بارے میں معلومات مل رہی ہیں کیونکہ اب یہ واقعات زیادہ تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں یہ ایک نظام کا المیہ جو ہمارے قدامت پسند معاشرے میں تاریخی طور پر غیرت کے نام پر قتل اور کاروکاری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ہمیں ان کے خلاف لڑنا ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم میں جہاں سخت سزائیں ضروری ہے وہیں معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔

"اس میں جو ایک عنصر جس کا (ایسے واقعات میں) عمل دخل ہے وہ تعلیم کا نا ہونا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جو ہمارے مذہبی رہنما ہیں کہ ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کو معاشرے سے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ایک شخص کا قتل ساری مخلوق کا قتل کہا جاتا ہے لیکن اگر وہ یہ سکھائیں گے کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو غیرت کے نام پر قتل نا کرو اور نکاح جو ہے وہ دونوں کی (لڑکی اور لڑکے) کی مرضی سے ہونا چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کا کمیشن غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے اسباب کا کھوج لگانے ایک منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔

"قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے تحت ہم ایک پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں جس میں غیر ت کے نام پر قتل کے واقعات کے اسباب اور وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا اور سائنسی بنیادوں پر ان کے اسباب کو دیکھا جائے گا۔"

پاکستان میں غیر ت کے نام پر قتل کے واقعات اکثر رونما ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکیاں اور خواتین ان کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ تاہم بعض اوقات مردوں کو بھی اس میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG