رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ مواد کو ’سنسر‘ کرنے کے مجوزہ اختیارات پر سینیٹ میں بحث


حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔

سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت کے مجوزہ قانون میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو انٹرنیٹ پر مواد کی نگرانی، اس کو بلاک کرنے یا ہٹانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذیلی کمیٹی کے بدھ اور جمعرات کو ہونے والے اجلاسوں میں پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل 2015 کی ’’آن لائن معلومات کی نگرانی‘‘ سے متعلق شق 34 پر بحث کی گئی۔

ان اجلاسوں میں شرکت کرنے والی سرگرم کارکن اور غیرسرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد نے کہا کہ آئی ٹی ماہرین اور سرگرم کارکنوں کا خیال ہے کہ مجوزہ قانون کی شق 34 آئین کے آرٹیکل 19 کے منافی ہے جو اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

’’سول سوسائٹی نے اور آئی ٹی ماہرین نے کہا تھا کہ یہ شق ہونی ہی نہیں چاہیئے اور نہ ہی کسی اتھارٹی کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیئے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود مواد کو بین یا سنسر کر سکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود مواد کی نگرانی کر رہی ہے اور توہین مذہب یا غیر اخلاقی سمجھے جانے والے بہت سے مواد کو انٹرنیٹ پر بلاک کیا گیا ہے یا اسے ہٹایا جا چکا ہے۔

ان کے بقول اب اس اختیار کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی جار ہی ہے جس سے پی ٹی اے کو کھلی آزادی مل جائے گی کہ وہ ایسے کسی بھی مواد جسے وہ قابل اعتراض سمجھتی ہے اس تک رسائی ختم کر دے یا اسے انٹرنیٹ سے ہٹا دے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔

نگہت داد کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے اس شق کو ختم کرنے کی تجویز پر غور نہیں کیا کیونکہ سینیٹرز کا خیال ہے کہ ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال میں حکومت کے پاس کسی حد تک یہ اختیار ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر مواد کو بلاک کرنا عملی طور پر بھی ممکن نہیں کیونکہ اس تک متبادل ویب سائٹس کے ذریعے رسائی ہو سکتی ہے۔ تاہم وہ سائبر کرائم بل کی ضرورت سے متفق تھیں۔

’’سائبر کرائم بل ہونا چاہیئے اور اس پر ہمیں قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس طرح کا قانون لائیں جس میں سکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن ہو، ناکہ یہ کہ آپ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت سکیورٹی کو انتی زیادہ ترجیح دیں کہ آپ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی رہے اور اس پر کسی کی توجہ نہ ہو۔‘‘

قومی اسمبلی نے اپریل میں اس بل کی منظوری دی تھی، مگر سینیٹ میں ابھی اس پر بحث جاری ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔

حالیہ سالوں میں پی ٹی اے نے فحش مواد پر مشتمل سینکڑوں ویب سائٹس کو پاکستان میں بلاک کرنے کے علاوہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس مثلاً یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر پر اس کے بقول توہین مذہب یا دیگر قابل اعتراض مواد تک رسائی کو محدود کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG