رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے سفارشات کا اعلان


سرتاج عزیز ںے کہا کہ فاٹا کی مخصوص جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر ایک قابل عمل تجویز یہ سامنے آئی کہ اس کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے 'فاٹا' کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مرتب کردہ سفارشات جاری کر دی ہیں۔

ان سفارشات کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ تقریباً پچاس لاکھ کی آبادی پر مشتمل فاٹا کے علاقے کو کئی طرح کی مسائل کا سامنا ہے جن میں غربت اور پسماندگی بڑے مسائل ہیں اور اُنھیں دور کرنے کے لیے اس علاقے میں ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ سفارشات چھ رکنی کمیٹی نے آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے طویل مشاورتی عمل کے بعد تیار کی ہیں، جس میں اُن کے بقول تمام فریقوں کی رائے لی گئی۔

سرتاج عزیز ںے کہا کہ فاٹا کی مخصوص جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر ایک قابل عمل تجویز یہ سامنے آئی کہ اس کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

" یہ ایک واضح نتیجہ تھا کہ اس کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اس کو 'کے پی کے' کےساتھ شامل کرنا، وہ ایک واحد راستہ ہے یہ لیکن ایسا فوری طور پر نہیں کر سکتے ہیں اس کو بتدریج کرنا ہو گا اور اس کے لیے ہم نے پانچ سال کے عبوری عرصہ کی تجویز دی ہے۔ اس میں ایسے کام کریں گے جو فاٹا کو (کے پی کے) میں شامل کرنے کے لیے تیار کریں گے"۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ فاٹا اصلاحات اس وقت تک بے معنی ہوں گی جب تک قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی اور بحالی کا کام مکمل نہیں ہو جاتا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونحواہ 'کے پی کے' کے برابر لانے کے لیے ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

"ایک دس سالہ ترقیاتی پروگرام بنے، جس میں میں ہدف یہ ہے کہ ان کے تمام سماجی و اقتصادی اشاریے جو ہیں وہ کم ازکم 'کے پی کے' کی سطح پر آ جائیں اور اس کے لیے ہم نے سفارش دی ہے کہ ملک کے قابل تقسیم محاصل سے تین فیصد ہر سال فاٹا کے لیے مختص کیا جائے۔۔۔ قابل تقسیم کا محاصل کا ایک فیصد تقریباً تیس ارب بنتا ہے اور اگر تین فیصد کرتے ہیں تو یہ 90 ارب ہو جائے اس وقت فاٹا کو ترقیاتی (بجٹ) بیس ارب ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ فاٹا ترقیاتی پروگرام کے تحت تمام قبائلی علاقوں میں مختلف شعبوں میں یکساں ترقیاتی پروگراموں کو یقنیی بنایا جائے گا۔

فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرف سے پاکستان کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کوقبائلی علاقوں تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انھوں کہا کہ کہ فاٹا میں امن امان کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی پولیس فورس میں 20 ہزار اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے مکینوں کا یہ بڑا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ان کو ملک کے دیگر علاقوں کے مساوی حقوق دے کر انہیں مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ان سفارشات کو بحث کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلے کرتے وقت مقامی افراد کی خواہشات کو ضرور مد نظر رکھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG