رسائی کے لنکس

مشال خان کے مقدمۂ قتل سے سرکاری وکیل الگ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

درخواست گزار ظفر عباس نے خصوصی عدالت کے جج کو بتایا تھا کہ انہیں ملزمان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبِ علم مشال خان کے مقدمۂ قتل کے وکیلِ استغاثہ نے مقدمے سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔

ہری پور سینٹرل جیل کے احاطے میں ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جاری مقدمے میں سرکاری وکلا کی ٹیم کے ڈائریکٹر ظفر عباس نے مقدمے سے الگ ہونے کی درخواست جمع کرا رکھی تھی جو منگل کو ہونے والی سماعت کے موقع پر خصوصی عدالت کے جج فضل سبحان نے منظور کرلی۔

درخواست گزار ظفر عباس نے خصوصی عدالت کے جج کو بتایا تھا کہ انہیں ملزمان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں لہذا انہیں اس مقدمے کی پیروی اور سماعت سے دستبردار کیا جائے۔

عدالت نے ظفر عباس کی درخواست کو منظور کرنے کے بعد حکومت کو پراسیکیوشن کے نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں۔

مشال خان قتل کیس میں مقتول کے والد کی پیروی کرنے والے وکلا کے پینل میں شامل سینئر وکیل لطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر کی علیحدگی سے مقدمے کی سماعت طول تو پکڑ سکتی ہے لیکن اس سے مقدمے کی نوعیت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ بااثر ملزمان کے والدین اور ان کے قریبی رشتہ دار سرکاری وکلا اور گواہان کو ہراساں کر رہے ہیں۔

لطیف آفریدی کے بقول ملزمان اس قسم کی حرکتوں سے اپنے آپ کو سزا سے بچانا چاہتے ہیں جو اب ممکن نہیں۔

لطیف آفریدی نے بتایا کہ اب حکومت بہت جلد ایک نئے ڈائریکٹر پراسیکیوشن کی تعیناتی کرے گی جبکہ مشال خان کے والد کی مدد کے لیے کئی اور وکلا بھی مقدمے کی سماعت میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔

دو روز قبل انسدادِ دہشت گردی عدالت ایبٹ آباد کے جج فضل سبحان نے اس مقدمے میں 53 ملزمان کی درخواستِ ضمانت بھی خارج کردی تھی۔

مردان پولیس نے مشال خان قتل کیس میں 61 ملزمان کو نامزد کیا ہے جن میں سے 57 گرفتار ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک کونسلر سمیت چار ملزمان ابھی تک روپوش ہیں۔

ملزمان میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکن اور حمایتی بھی شامل ہیں۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے سال آخر کے طالبِ علم مشال خان کو 13 اپریل 2017ء کو ساتھی طلبہ، یونیورسٹی ملازمین اور دیگر لوگوں نے توہینِ مذہب کے الزام میں بری طرح تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG