رسائی کے لنکس

مخبری کرنے والوں کے تحفظ کا بل اسمبلی میں منظور


واضح رہے اس سے قبل پاکستان میں معلومات فراہم کرنے والے کو کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہ تھا۔ نئے قانون کو پبلک مفادات میں انکشاف ایکٹ 2017 کانام دیا گیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت قومی اور عوامی مفاد میں “مخبری” کرنے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

واضح رہے اس سے قبل پاکستان میں معلومات فراہم کرنے والے کو کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہ تھا۔ نئے قانون کو پبلک مفادات میں انکشاف ایکٹ 2017 کانام دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص مجاز اتھارٹی کے روبرو عوامی مفاد میں انکشاف کرسکتا ہے جو ایک مقررہ فارم پر ہوگا، اتھارٹی کسی بھی بے نامی شکایت یا انکشاف کو زیرغور نہیں لائے گی۔

اس شکایت کی وصولی کے لیے اتھارٹی کم سے کم گریڈ سترہ کے افسر کو مقرر کرے گی، اس قانون کے تحت تمام اتھارٹیز بشمول پولیس، ایف آئی اے سمیت کسی بھی ایجنسی کی معاونت حاصل کرسکتی ہیں۔

اس قانون میں مخبر کو جو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اس کے تحت سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی مخالفانہ کارروائی نہ کی جائے۔

جو بھی سرکاری ملازم انکشاف کے بعد برطرف کر دیا جائے، معطل ہو، اسے ترقی نہ دی جائے، اس کی تنزلی کی جائے، اسے پریشان کیا گیا یا ڈرایا دھمکایا گیا تو اسے متاثرہ سمجھا جائے گا اور اتھارٹی اس حوالے سے کوئی بھی حکم جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

اگر کسی شخص کو جسمانی نقصان کا خطرہ ہو تو اتھارٹی پولیس اور دیگر اداروں کی معاونت بھی حاصل کرسکتی ہے، جبکہ شکایت گزار کی شناخت کو بھی مکمل پوشیدہ رکھا جائے گا جب تک کسی عدالت کے حکم پر اسے پیش کرنا ضروری نہ ہو۔

قانون کے مطابق شکایت پر بروقت عمل نہ کرنے کی صورت میں اتھارٹی حکام کے لیے جرمانوں کی سزا رکھی گئی ہے جبکہ شکایت گزار کی شناخت ظاہر کرنے پر چھ ماہ قید تک کی سزا بھی ہوسکے گی۔

جھوٹی مخبری کرنے والے کو ایک سال تک سزائے قید اور ایک لاکھ روہے جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔

قانون کا سب سے اہم حصہ استثنا کا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سالمیت، سلامتی، تزویری اور معاشی مفادات کے لیے، بیرونی ریاستوں سے تعلقات کے لیے، جرم کی جانب تحریک پیدا کرنے میں، کابینہ یا کابینہ کمیٹیوں کے کاغذات، عدالتون کی جانب سے ممنوعہ مواد، امانتی معلومات، تجارت، تخلیقی مواد، بیرون ملک سے صیغہ راز میں لی گئی معلومات کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔

قومی اسمبلی میں بل منظور کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے بھرپور مخالفت کی لیکن بلند آواز میں یس اور نو کہنے کی بنیاد پر اس بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو یہ کہہ کر جاری نہیں کیا گیا حالات خراب نہ ہوجائیں، اس طرح معلومات سامنے نہیں آئیں گی، انہوں نے بل کمیٹی کو بھجوانے کا مطالبہ کیا لیکن حکومت کے اصرار پر اس بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG