رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: بلوچ سماجی کارکن کی بازیابی کیلئے ریلی


’’اگر میرے بابا نے کوئی جرم کیا ہے تو قانون، عدالت اور جمہوری نظام کے تحت منظر عام پر سب کے سامنے سزا دی جائے، میرے اہلخانہ سخت ذہنی اذیت میں ہیں"

کراچی میں منگل کے روز ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بھرے مجمعے میں ایک نوجوان لڑکی اپنے والد کی بازیابی کیلئے اپیل کرتی نظر آئی۔

یہ 20 سالہ نوجوان لڑکی ہے ہانی بلوچ، جو گزشتہ دو ماہ سے لاپتہ اپنے والد واحد بلوچ کی بازیابی کے حق میں بھرے مجمعے میں اونچی آواز سے کہہ رہی تھی کہ میرے والد کا کیا جرم ہے؟ "سب پوچھتے ہیں آپ کے بابا نے کیا جرم کیا ہے؟ میرے بابا کہاں ہیں۔ کچھ پتا نہیں۔ ان کو بازیاب کروایا جائے"۔

’’اگر میرے بابا نے کوئی جرم کیا ہے تو قانون، عدالت اور جمہوری نظام کے تحت منظر عام پر سب کے سامنے سزا دی جائے، میرے اہلخانہ سخت ذہنی اذیت میں ہیں"۔

گمشدہ واحد بلوچ کی بیٹی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ "دو ماہ گزر گئے۔ میرے بابا کا کوئی پتا نہیں۔ میرے بابا کو کتابوں سے محبت اور جنون تھا، وہ سکھاتے تھے کہ کتابوں سے محبت کرو۔ کتاب بولنا سکھاتی ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے ہماری اپیل ہے کہ میرے والد کو بازیاب کیا جائے"۔

شہر کراچی میں اس سماجی کی بازیابی کے لئے ریلی نکالی اور احتجاج کیا گیا۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے تحت بلوچ سماجی کارکن کی بازیابی کے حق میں کراچی کے علاقے صدر ریگل چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں انسانی حقوق کمیشن کے ارکان، سول سوسائٹی اور بلوچ سماجی کارکن کے اہلخانہ شریک ہوئے۔

مظاہرین نے بلوچ سماجی کارکن کی تصاویر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے، جن پر ان کی بازیابی کیلئے تحریروں کے ذریعے حکومت سے اپیل کی گئی۔

احتجاج کی سربراہی انسانی حقوق کمیشن کے سندھ کے صوبائی وائس چیئرپرسن، اسد بٹ کر رہے تھے۔ وی او اے سے گفتگو میں بتایا اُنھوں نے بتایا کہ "واحد کو غائب ہوئے دو ماہ ہوچکے ہیں، ہمارا کہنا صرف اتنا ہے کہ اگر اس نے واقعی کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، پھرجو بھی عدالت اسکا فیصلہ کرے منظور ہوگا"۔

اسد بٹ کے بقول"گمشدہ سماجی کارکن واحد بلوچ ایک پر امن شخص تھا، وہ ایک سماجی کارکن تھا، اس نے کبھی اسلحے کی حمایت نہیں کی وہ پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے خیالات حقوق و نظریات کی ترویج کرتا تھا۔ اس کے لئے بات کرتا تھا"

ان کا مزید کہنا تھا کہ"ہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مسئلے کو اٹھاتی رہیں گی، جب تک یہ معاملہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچتا"۔

سندھ اسمبلی میں ن لیگ کی صوبائی وزیر سورٹھ تھیبو اس حوالے سے وی او اے سے گفتگو میں کہنا تھا کہ "حکومت جہاں دیگر معاملات کو دیکھ رہی ہے وہیں گمشدہ افراد کا معاملہ بھی حل طلب ہے اور اسکے لئے حکومت اور ادارے کام کر رہے ہیں"۔

انھوں نے کہا کہ جیسے ہر فرد کے حقوق کی ذمہ داری اعلیٰ حکام پر ہے وہیں گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے اعلیٰ حکام کو نظرثانی کرکے اسے جلد حل کرنا ہوگا"۔

عدالتی پٹیشن، واحد بلوچ کی گمشدگی کیخلاف ایف ائی آر درج

واضح رہے کہ واحد بلوچ کراچی کے علاقے لیاری کا رہائشی ہے، جو دو ماہ قبل 26 جولائی میں اندرون سندھ سے کراچی آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پٹیشن دائر کرنے اور عدالتی حکم کے تحت واحد بلوچ کی گمشدگی کی ایف آئی آر اہلخانہ کی مدعیت میں متعلقہ تھانے کراچی کے گڈاپ ٹاؤن میں درج کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG