رسائی کے لنکس

سوات میں چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کا احتجاج


پولیس کا ایک اہلکار سوات کے شہر منگورہ میں سیکورٹی فرائض انجام دے رہا ہے۔ فائل فوٹو

سوات میں مظاہرین نے مینگورہ نشاط چوک اور خوازہ خیلہ میں چیک پوسٹوں کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کر تے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سوات سے مکمل طور پر سیکورٹی اور پولیس چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔سوات کے عوام کو آزادی کا حق دیا جائے ۔ سوات کے لوگ امن چاہتے ہیں۔ ہم انسان ہیں، دہشت گرد نہیں۔ دہشت گردی ،دہشت گرد نامنظور ،نامنظور کے نعرے بھی لگائے گئے۔

مظاہرین نے کہا کہ اب سوات میں امن آ گیا ہے۔ لہذا شہر کا تمام تر انتظام سول انتظامیہ کے حوالے کیا جانا چاہئیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں کو تباہ کیا گیا۔ہزاروں لوگوں کو شہید کیا گیا۔ اب ہمیں آزادی چاہئیے۔ اگر اس پر ایکشن نہیں لیا گیا تو آئندہ اتوار کے روز سوات بھر کے عوام سڑکوں پر نکل کر چیک پوسٹوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے آزادی کے حق میں پر امن احتجاج کریں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مینگورہ شہر کے نشاط چوک اور خوازہ خیلہ میں سیکورٹی چیک پوسٹوں پر شہریوں کو بے جا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ نارواسلوک اور ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 11 سال سے سوات کے عوام کو آزادی حاصل نہیں ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جوان ،بوڑے ،خواتین اور بچے چیک پوسٹوں پر غیر مناسب سلوک کا شکار ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ گیار ہ سال سے عوام تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر سوات میں فوجی آپریشن، عوام پر تشدد اور سوات میں قائم تمام چیک پوسٹوں کو ختم کرنے کے حق میں نعرے درج تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG