رسائی کے لنکس

logo-print

ویتنام: ’آئل رگنگ‘ پر ردِ عمل، چینی کارخانوں پر حملہ


ویتنام کا دعویٰ ہے کہ جس علاقے میں چین کی جانب سے آئل رگنگ کی جا رہی ہے وہ ویتنام کی ملکیت ہے

ویتنامی عہدیداروں نے جنوب ویتنام میں کئی ہزار ورکرز کو پُرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔ ان مزدوروں نے مقامی کارخانوں پر دھاوا بول دیا تھا، جو ان کے خیال میں، چینی باشندوں کی ملکیت تھے۔

یہ واقعات جنوبی بحیرہ ِچین میں چین کی جانب سے آئل رگنگ کے باعث کیا گیا۔ ویتنام کا دعویٰ ہے کہ جس علاقے میں چین کی جانب سے آئل رگنگ کی جا رہی ہے وہ ویتنام کی ملکیت ہے۔

مقامی کارخانوں و فیکٹریوں پر دھاوے کا واقعہ ویتنام کے اہم تجارتی مرکز بن ڈونگ صوبے میں پیش آیا۔

ایک کارخانے کے دروازے پر بورڈ آویزاں کیا گیا کہ، ’ہم جنوبی کورین ہیں اور ہمارے ہاں کوئی چینی باشندے کام نہیں کرتے‘۔ ایک اور کارخانے پر جاپانی جھنڈے کے ساتھ یہ بورڈ لگا دکھائی دیا، ’ہم ہمیشہ ویتنام کی حمایت کرتے ہیں‘۔

ان بورڈز کی تصاویر بڑے پیمانے پر فیس بک پر شیئر کی جا رہی ہیں اور مقامی فیکٹریوں کے مالکان کی پوری کوشش ہے کہ انہیں چینی کمپنیاں نہ سمجھا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ویتنام کے پانیوں میں چین کی جانب سے آئل رگنگ پر احتجاج کے لیے تقریباً 20 ہزار کارکن سڑکوں پر نکل آئے، جن کا ہدف وہ کارخانے تھے، جو اُن کے مطابق، چینی مالکان کی ملکیت تھے۔

ویتنام کے سرکاری اخبار ٹوئی ٹرے کی انگریزی کی ویب سائیٹ کے مطابق کچھ لوگ دفتروں کی عمارتوں میں گھس گئے اور شیشے توڑ ڈالے اور قیمتی اشیاء کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ لوگوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار جاری رکھی اور سیکورٹی گارڈز کو بھی زدو کوب کیا۔

دوسری طرف، چین کی جانب سے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

چین کی وزارت ِخارجہ کے ترجمان، ہوا چن ینگ نے اس سلسلے میں ایک مقامی نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے ویتنام کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں اور ان افراد کو سزا دی جائے جو اس واقعے میں ملوث تھے۔

چین کا کہنا تھا کہ ویتنام میں موجود چینی کمپنیوں اور باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

XS
SM
MD
LG