رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور نے نہایت سنسنی خیر مقابلے کے بعد لاہور کو ہرا دیا


لاہور کے بعد پشاور زلمی نے جوابی بیٹنگ کا آغاز اچھے انداز میں نہیں ہوا تھا ایک موقع پر جب 20 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو لگتا تھا کہ پشاور زلمی آج کا میچ بری طرح ہار جائے گا لیکن مصباح الحق اور ڈیرن سمینی کی شاندار اور لمی پارٹنر شپ کی بدولت پشاور زلمی کی ٹیم میچ ہارتے ہارتے مقررہ 20 اوور سے ایک بال پہلے ہی چار وکٹ سے جیت گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس جیت کے ساتھ ہی پشاور پلے آف مرحلے کے لئے بھی کوالیفائی کرگئی ہے۔

آج کے میچ کے نمایاں بیٹسمین مصباح الحق رہے جو 59 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جب کہ ڈیرن سیمی نے 46 رنز بنائے۔ ان دونوں پلیئرز کی ذمے دارانہ بیٹنگ کی بدولت ہی یہ میچ پشاور زلمی کی ٹیم اپنے نام کرسکی۔

لاہور کے بالرز اور فیلڈرز دونوں نے اپنی پرفارمنس میں کوئی کثر نہیں چھوڑی لیکن آج کے دن شاید پشاور زلمی کی جیت ہی ہونا تھی ۔ لاہور نے پشاور کے خلاف 6 بالرز آزمائے جن میں سے شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ راحت علی، وائزے اور ڈوشے نے ایک ایک وکٹ لی۔

پشاور کی طرف سے اننگز کا آغاز کامران اکمل اور امام الحق نے کیا تھا لیکن دونوں ہی کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔

پہلی وکٹ 6 اور دوسری وکٹ 8 رنز پر ہی گر گئی۔ کامران 3 اور امام الحق 4 رنز بناسکے۔

اگلی بیٹسمین جوڑی عمر امین اور مصباح الحق کی تھی لیکن تیسرے اوور کے اختتام تک عمر امین بھی پویلین لوٹ گئے۔ انہیں شاہین شاہ آفریدی نے آؤٹ کیا جبکہ اس سے قبل انہوں نے ہی امام الحق کی وکٹ بھی لی تھی جبکہ کامران اکمل کو راحت علی نے بولڈ کیا تھا۔

ابھی تیسرا اوور پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ شاہین شاہ نے ڈاؤسن کو بھی صفر پر ہی آؤٹ کردیا یوں 12 رنز کے اسکور تک پشاور کی چار وکٹس گر یں۔

چار وکٹس میں سے تین وکٹ شاہین شاہ آفریدی نے لئے جو ان کی عمدہ پرفارمنس کی جانب واضح اشارہ تھا۔ پشاور زلمی جو پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر تھی ایک روز پہلے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے ہار گئی تھی جبکہ آج کے میچ میں چار اوورز کے بہت ہی چھوٹے اسکور پر اس کے چار کھلاڑی پویلین لوٹنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

پانچویں اوور کے اختتام پر مصباح الحق اور پولاڈ کریز پر تھے۔ انہوں نے دو، دو رنز بنائے تھے جبکہ ٹیم کا اسکور 16 رنز تھا۔ ایسی پوزیشن میں مصباح الحق پر بڑی زمے داری آگئی تھی کیوں کہ وہ وکٹس روکنے پر بہت حد تک مہارت رکھتے ہیں۔

چھٹا اوور ختم ہوا تو مصباح الحق 6 اور پولاڈ 2 رنز بناچکے تھے جبکہ کل اسکور 20 رنز تھا۔ چار کھلاڑی پہلے ہی آؤٹ ہوچکے تھے۔

اگلے اوور میں پولاڈ بھی آؤٹ ہوگئے صرف 2 رنز اسکورکرکے انہیں وائزے نے بولڈ کر دیا۔ اس طرح پشاور زلمی کی آدھی ٹیم بیس رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پولاڈ کی جگہ پشاور کی آخری امید آخری ہٹ بیٹسمین ڈیرن سیمی کریز پر پہنچے۔

حیران کن طور پر پشاور زلمی کا کوئی بھی کھلاڑی سات اوور کا کھیل ختم ہونے تک 10 رنز بھی اسکور نہیں کرسکا تھا۔ صرف مصباح الحق آٹھ رنز تک پہنچے تھے جو اس وقت تک کا سب سے ’بڑا‘ اسکور تھا۔

نویں اوور تک کا کھیل مکمل ہوا تو اسکور 34 رنز تک پہنچا جس میں مصباح کے 11 اور سیمی کے 9 رنز شامل تھے۔

دسویں اوور کی پہلی بال پر پشاور کی جانب سے مصباح نے دوسرا چھکا لگایا جبکہ 10 اوور ختم ہونے تک اسکور بڑھ کر 52 رنز ہوگیا جس میں مصباح کے 25 اور سیمی کے 10 رنز شامل تھے۔ تاہم پشاور کو اب بھی 60 بالوں پر 73 رنز بنانا تھے۔

پشاور کی پہلی وکٹ 6 رنز پر جبکہ دوسری وکٹ 8 اور تیسری و چوتھی وکٹ 12 رنز پر اور پانچویں 20 رنز پر گری تھی۔

گیارہ اوورز میں 54 رنز بنے۔ مصباح 26 اور سیمی 11 رنز پر کھیل رہے تھے۔

لاہور کی جانب سے آج فیلڈرز نے بھی بھرپور انداز میں پرفارمنس دی اور متعدد مواقع پر اسکور کو بڑھنے سے رکے رکھا یہی وجہ تھی کہ بیٹسمین کو کھل کر کھیلنے اور رنز بنانے کا موقع نہیں ملا۔ یوں بی پشاور کی ٹیم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوگئی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ یہ دباؤ کم ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

13 ویں اوور تک اسکور 64 رنز ہوگیا جس میں مصباح کے 30 اور ڈیرن سیمی کے 16 رنز شامل تھے تاہم میچ جیتنے کے لئے اب بھی ایک بڑا اسکور بنانا باقی تھا۔

14 اوورز میں چوکے چھکے مارنے کے بجائے ہر بال پر ایک، ایک یا دو، دو رنز لینے کی بیٹسمین کی پالیسی نے اثر دکھانا شروع کردیا تھا جس کی بدولت دونوں کھلاڑی 50 رنز کی پارٹنر شپ کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس اوور میں اسکور 72 رنز ہوگیا تھا۔

15 ویں اوور میں دونوں بیٹسمین نے تیز انداز سے اسکور کرنے کی کوشش کی لیکن اوور میں صرف 6 رنز ہی بن سکے۔ اسکور 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر 77 ہوگیا تھا جبکہ مصباح 35 اور سیمی 24 رنز بناچکے تھے۔

16 ویں اوور میں تیزی سے رنز بنے اور اسکور 90 ہوگیا جس میں مصبح کے 45 اور سیمی کے 27 رنز شامل تھے۔

17 اوور تک اسکور پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 94 ہوا۔ تو پشاور کو 16 بالوں پر 29 رنز بنانا تھے۔

18 ویں اوور میں مجموعی طور پر 18 رنز بنے اور اسکور بڑھ کر 112 رنز ہوگیا جس میں 49 مصباح اور 45 رنز سیمی نے بنائے تھے۔

19 ویں اوور میں اسکور 119 ہوگیا جبکہ پشاور کے پانچ ہی کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ آخری اوور کی چھ بالوں پر پشاور کو 6 رنز بنانا تھے لیکن ڈیرن پانچ رنز اور پانچ بال پہلے ہی بولڈ ہوگئے۔ انہوں نے 46 رنز بنائے جبکہ مصباح الحق کے ساتھ ان کی پارٹنر شپ 100 کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہی۔

ڈیرن سیمی کی جگہ وہاب ریاض آئے لیکن اسی دوران اوور تھرو کے سبب پشاور کو تین رنز بنانے کا موقع مل گیا اور میچ کا اسکور برابر ہوگیا۔ دوبالوں پر ایک رن درکار تھا جو وہاب ریاض نے شارٹ کھیل کر آسانی سے بنالیا۔ وہاب ریاض دو رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

لاہور 7 وکٹ پر 124 رنز بناکر آؤٹ

لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے درمیان ابو ظہی میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز کی ٹیم سات وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

پی ایس ایل ایونٹ کے 25 ویں میچ میں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے لاہور قلندرز کو بیٹنگ کرنے کا موقع دیا تھا۔ یوں پشاور کو یہ میچ جیتنے کے لئے 120 بالوں پر 125 رنز بنانا ہوں گے۔

لاہور کی جانب سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور ڈیویچ نے کیا لیکن ڈیویچ 12 رنز پر پہلی وکٹ کے طور پر آؤٹ ہوکر پویلین چلتے بنے۔ انہیں ٹائمل کی بال پر پولاڈ نے کیچ کیا۔ وہ سات بالوں پر صرف پانچ رنز ہی بناسکے تھے جبکہ فخر زمان سات رنز پر تھے۔

ڈیویچ کی جگہ حارث سہیل آئے۔ میچ کا اسکور ابھی 18 رنز تک ہی پہنچا تھا کہ سمین گل نے تیسرے ہی اوور میں فخر زمان کو بھی 11 رنز پر وکٹ کے پیچھے کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا ۔

فخر زمان کی جگہ تین ڈوئشے کھیلنے آئے۔ جنہوں نے تیسرے اوور کے اختتام تک کوئی رنز نہیں بنایا تھا جبکہ حارث سہیل اس دوران دو رنز ہی بناسکے تھے۔

دو کھلاڑیوں کے نقصان کے پعد لاہور کے کھلاڑیوں پر ایک دباؤ سا آگیا جس کا انداز چھ اوورز تک کے کھیل کے دوران بننے والا 35 رنز کا اسکور ہے جس میں حارث سہیل کے 17 اور ڈوشے کے صرف دو رنز شامل تھے۔

ساتویں اوور کی تیسری بال پر لاہور کی تیسری وکٹ گر گئ۔ ڈوشے 36 رنز کے مجموعی اسکور پر 2 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ انہیں بھی سمین گل نے آؤٹ کیا جبکہ پولاڈ نے ان کا کیچ لیا۔

ایک سہیل کا ساتھ دینے کے لئے دوسرا سہیل کریز پر پہنچا، حارث سہیل اور سہیل اختر چوتھی وکٹ کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹنگ کررہے تھے۔ حارث سہیل کا اسکور آٹھویں اوور کے اختتام پر 23 رنز ہوگیا جبکہ سہیل اختر نے ایک رن بنایا تھا۔۔ مجموعی اسکور 43 رنز تھا۔

لیکن حارث سہیل بھی 33 بالز کھیل کر 43 رنز کا اسکور کرکے آؤٹ ہوگئے ۔ لاہور کو پہنچنے والا یہ چوتھا نقصان تھا۔

ادھر سہیل اختر بھی زیادہ رنز نہ بناسکے اور گیارہ کے اسکور پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ ان کی وکٹ سمین گل نے لی۔

عمیر مسعود اور 22 رنز پر ملز کی بال پر بولڈ ہوئے جبکہ شاہین شاہ آفریدی کو وہاب ریاض نے دو رنز پر بولڈ کیا۔

وائزے اور سندیپ آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔ وائزے 22 رنز بناسکے جبکہ سندیب کو کھاتا کھولنے کا بھی موقع نہیں مل سکا۔

پشاور زلمی کی طرف سے ملز نے 3، ثمین گل نے 2، ڈاؤسن اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ لی۔

آج کے لاہور قلندرز :
فخرزمان، اینٹن ڈیویچ ، حارث سہیل، ریان ٹین ڈوشے، سہیل اختر، ڈیوڈ وئزے، عمیر مسعود، راحت علی، شاہین شاہ آفریدی، سندیپ، حارث روف ۔

آج کے پشاور زلمی :
کامران اکمل، امام الحق، مصباح الحق، عمر امین، لیام ڈاؤسن، کیرون پولاڈ، ڈیرن سیمی، وہاب ریاض، حسن علی ، ٹائمل ملز اور سمین گل۔

XS
SM
MD
LG