رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی ڈی سی موٹلز کی بندش اور ملازمین کی برطرفی، معاملہ ہے کیا؟


(فائل فوٹو)

پاکستان میں چند روز قبل ملک میں سیاحت کے فروغ کے سرکاری ادارے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) سے ملازمین کی برطرفی اور کئی موٹلز بند کرنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز اور نیشنل ٹورازم کوارڈنیشن بورڈ کے سربراہ زلفی بخاری نے چند روز قبل ان برطرفیوں پر یہ عذر پیش کیا تھا کہ ادارے کو بند نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں اصلاحات کے لیے ناگزیر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ نکالے گئے افراد کو پرکشش 'گولڈن ہینڈ شیک' پیکج دیا جا رہا ہے جس میں 30 سال تک ملازمت کرنے والوں کو 90 تنخواہیں اور چھ ماہ کا ہاؤس الاؤنس، بقایاجات سمیت دیگر مراعات دی جا رہی ہیں۔ البتہ پی ٹی ڈی سی یونین نے اس پیش کش کو مسترد کیا ہے۔

پی ٹی ڈی سی یونین کے صدر ماجد یعقوب اعوان کہتے ہیں کہ معاوضے کے حوالے سے تمام زبانی کلامی باتیں ہیں جبکہ ریکارڈ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یونین کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے چار دور ہوئے، آخری میٹنگ میں انہوں نے گولڈن ہینڈ شیک اسکیم سے انکار کر دیا۔

ان کے مطابق 30-35 سال سے ملازمت کرنے والے شخص کو ایسے کیسے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی ڈی سی کے پورے پاکستان میں کل 46 موٹلز اور کئی ریسٹورانٹس ہیں اور اس کا مجموعی خسارہ 31 کروڑ روپے ہے جب کہ زلفی بخاری یہ خسارہ 105 کروڑ روپے ظاہر کر رہے ہیں۔

زلفی بخاری نے کہا تھا کہ صوبوں میں موجود پی ٹی ڈی سی کے موٹلز کو 30 یا 33 سال کے لیے نجی شعبے کو لیز پر دے دیا جائے تاکہ وہ بہتر انداز میں انہیں چلا سکیں۔

پی ٹی ڈی سی کے ملازمین نے اپنی برطرفی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام ایک خط بھی لکھا ہے۔

جواد علی گزشتہ 30 سال سے پی ٹی ڈی سی سے وابستہ اور بحیثیت انچارج پی ٹی ڈی سی گلگت میں فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان میں ادارے کے کل 10 موٹلز ہیں جس میں سے نو گزشتہ نومبر کے آف سیزن اور کرونا وبا کے پیشِ نظر بند پڑے ہیں جب کہ گلگت کا پی ٹی ڈی سی موٹل ممکنہ قرنطینہ سہولت کی وجہ سے بحال ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے جواد علی نے بتایا کہ وہ بھی دوسرے تمام ملازمین کی طرح یکم جولائی سے نوکری سے بغیر کسی معاوضے کے برخاست کر دیے گئے ہیں۔

پچپن سالہ جواد علی کے مطابق نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں سیاحت کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کے بعد اکتوبر 2005 کا زلزلہ اور 2008 سے 2012 تک ملک میں دہشت گردی کی لہر اور سیلاب پی ٹی ڈی سی کے خسارے کی وجوہات بنیں۔ لیکن اُن کے بقول ملازمین کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ملازمین کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔
ملازمین کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2013 سے 2019 تک ادارے کے موٹلز خسارے میں نہیں ہیں صرف کرونا وبا کی وجہ سے بند ہیں۔

جواد علی نے مزید بتایا کہ پی ٹی ڈی سی کا کام کمانا نہیں ہے بلکہ سیاحوں کو مناسب دام پر سہولت فراہم کرنا ہے جن علاقوں میں دوسرے سرمایہ کاروں کی پہنچ نہیں تھی وہاں پی ٹی ڈی سی نے موٹلز بنائے تاکہ عوام کو سہولت مل سکے۔

اُن کے بقول جہاں پی ٹی ڈی سی نے موٹلز بنائے وہاں نجی شعبے نے بھی موٹلز قائم کیے اور یوں ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ ملا۔

زلفی بخاری نے دعویٰ کیا تھا کہ کرونا وبا ان ملازمین کی برطرفی کی وجہ نہیں ہے۔ اُن کے بقول گزشتہ سال کابینہ کے ایک اجلاس میں ادارے میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ نکالے گئے ملازمین کی وجہ سے ادارے کے دیگر ہزاروں ملازمین کا روزگار خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

زلفی بخاری کے مطابق ادارہ کروڑوں روپے کے خسارے میں جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاح بھی ان کی سروسز سے خوش نہیں تھے۔

ہارون خالد کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے کانٹریکٹر ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے پی ٹی ڈی سی کے موٹلز میں قیام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس ادارے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کے موٹلز کے نرخ بہت مناسب ہیں۔ اُن کے بقول مڈل کلاس فیملی با آسانی یہاں قیام کر سکتی ہے۔

زلفی بخاری (فائل فوٹو)
زلفی بخاری (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہویے انہوں نے بتایا کہ حکومت پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کی نا اہلی کی بات تو کرتی ہے لیکن ان کو کئی مہینوں کی تنخواہیں تک ادا نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے گلہ کیا کہ بد قسمتی سے پاکستان ٹورازم کی باگ ڈور ایسے شخص کے سپرد کر دی گئی ہے جسے ملک میں موجود سیاحتی مقامات کا بھی علم نہیں ہے۔

'ماضی کی حکومتیں ذمہ دار ہیں'

اتوار کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران زلفی بخاری نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی میں خسارے کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پیپلزپارٹی کے دور میں بھرتی کیے گئے 970 ملازمین کو نکال کر اپنی پارٹی کے لوگوں کو نوکریوں پر رکھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس معاملے کو افہام و تفہم کے ساتھ حل کرنے کے لیے یونین کے ساتھ بیٹھے۔ لیکن کوئی خاطر خوا نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی شدت میں کمی کے بعد پاکستانی کشمیر اور گلگت بلتستان کے پی ٹی ڈی سی موٹلز کی ٹینڈرنگ کی جائے گی اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایک سال میں اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ اُن کے بقول اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG