رسائی کے لنکس

پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنے کی صورت میں 100 دن کا ایجنڈا جاری


پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے لیے اگرچہ اب تک تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن سیاسی جماعتیں ابھی سے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے برسرِاقتدار آنے کی صورت میں حکومت کے پہلے 100 دن کا ایجنڈا بھی پیش کردیا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ موٹروے بنانا کونسا مشکل کام ہے۔ اصل کامیابی تو قوم بنانا ہے۔

تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت میں آکر نیب کو مکمل خود مختاری دے جائے گی۔ وزیراعظم ہاوٴسنگ اسکیم پروگرام لانچ کیا جائے گا جس کے تحت 50 لاکھ فلیٹس بنائے جائیں گے اور اقتصادی سفارتکاری کو ترجیحاً بروئے کار لایا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی ممکنہ حکومت کے پہلے 100 دن کا ایجنڈہ پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نوازشریف جہاں جاتے ہیں وہاں موٹر وے بنانے کا اعلان کردیتے ہیں۔ کبھی نیلسن منڈیلا نے ایسی بات نہیں کی تھی لیکن نوازشریف موٹروے بنانے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ موٹروے تو کسی کو بھی پیسے دے کر بنوائی جاسکتی ہے۔ اس لیے موٹر وے نہیں قوم بنانا مشکل کام ہے۔ نواز شریف کے ’کیوں نکالا‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری پاکستانی قوم کو کہہ رہے ہیں کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے نکالنے کی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے سی پیک ایک بہترین موقع ضرور ہے تاہم سی پیک سے بھی زیادہ اوور سیز پاکستانی مدد گار ثابت ہوں گے۔ سمندر پار پاکستانی ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں جنہیں گورننس بہتر بنا کر ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے ممکنہ اقتدار کے بعد شروع کے 100 دن کا منصوبہ پیش کیا جس میں شاہ محمودقریشی نے داخلہ پالیسی جب کہ شیریں مزاری نے خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کیے۔ جہانگیر ترین نے زرعی اصلاحات پربات کی جب کہ اسد عمر نے معیشت کے خدوخال واضح کئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنےکے بعد بلوچستان کو احساس محرومی سے نکالیں گے اور ناراض لوگوں کو منا کرقومی دھارے میں لائیں گے، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کریں گے اور فاٹا کے لوگوں کو کے پی اسمبلی میں نمائندگی دی جائےگی، جنوبی پنجاب صوبہ بنا کر پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ احتساب پی ٹی آئی کی حکومت کا اہم ستون ہوگا اور ہماری حکومت نیب کو مکمل خود مختاری دے گی۔ جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ لوگوں کو سستے گھر دیئے جائیں گے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر کیا جائیگا جب کہ شہر اقتدار میں گورننس کو بہتر بنائیں گے۔

معیشت کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں ہم نے سب سے پہلے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو روزگار دینا ہے اور منصوبے کے مطابق 5 سال میں ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کریں گے۔ 100 دن میں سیاحتی پالیسی اور ایف بی آر میں اصلاحات کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم ہاوٴسنگ اسکیم پروگرام لانچ کیا جائے گا جس کے تحت 50 لاکھ فلیٹس بنائے جائیں گے۔ قومی ادارہ اسٹیل مل 2 سال سے بند پڑی ہے۔ جب تک یہ کارخانے سیاستدانوں اور بابووٴں کے ہاتھ میں رہیں گے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ہم ان لوگوں سے ان کارخانوں کی اصلاحات کرائیں گے جو کاروبار اور صنعتوں کو سمجھتے ہیں۔

زراعت کے حوالے سے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ حکومت میں آتے ہی زرعی ایمرجنسی کا اعلان کریں گے۔ ہمیں تحقیق پر پیسے خرچ کرنا ہوں گے۔ زرعی تحقیق میں ہم دنیا سے 40 سال پیچھے ہیں۔ تاہم امید ہے کہ ہم یہ فرق ایک سال میں پورا کرلیں گے۔ پورے پاکستان میں ویئر ہاوٴسز کا جال بچھا دیں گے۔ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اب تک اپنا منشور پیش نہیں کیا البتہ اپنا پہلے سو دن کا یجنڈا پیش کردیا ہے جو بظاہر خاصا خوش کن ہے۔

تاہم پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے عمران خان کے اس ایجنڈے کو کھوکھلے وعدے قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG