رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیرہ اسماعیل خان: خودکش حملے میں تحریکِ انصاف کے امیدوار ہلاک


دھماکے کے بعد اکرام اللہ گنڈاپور کی گاڑی

خود کش حملے کے بعد اکرام اللہ گنڈا پور کو علاج کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

خیبر پختونخوا کے ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں 25 جولائی کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ خان گنڈا پور سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منظور آفریدی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل تحصیل کلاچی سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 99 سے پی ٹی آئی کے امیدوار سردار اکرام اللہ خان گنڈاپور کی گاڑی پر اتوار کی صبح خودکش حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور اکرام اللہ سمیت پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

خود کش حملے کے بعد اکرام اللہ گنڈا پور کو علاج کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پی ٹی آئی رہنما کا ڈرائیور رمضان اور ایک محافظ بھی شامل ہیں۔

ڈی پی او منظور آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اکرام اللہ گنڈاپور ایک انتخابی جلسے میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے اور کچھ دور ہی گئے تھے کہ کلاچی کے علاقے کمال چوک کے قریب ان کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی جگہ پر ایک انسانی سر اور ٹانگیں بھی موجود تھیں جنہیں جائے واقعہ پر پہنچنے والے پولیس حکام نے تحویل میں لے لیا ہے۔

منظور آفریدی نے بتایا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا اور اس کا ہدف اکرام اللہ گنڈاپور ہی تھے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے واقعہ پر پہنچ گئی اور وہان سے شواہد اکٹھے کیے۔

مبینہ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔

اکرام اللہ گنڈا پور پاکستان تحریکِ انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت میں وزیر برائے زراعت تھے۔

وہ اپنے بھائی کی وفات سے خالی ہونے والی ڈیرہ اسماعیل خان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 67 پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اکرام اللہ گنڈاپور کے بھائی اور صوبائی وزیرِ قانون اسرار اللہ گنڈاپور بھی اکتوبر 2013ء میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل اتوار کو بنوں میں بھی سابق وزیرِ اعلٰی اکرم خان درانی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔ اکرم خان درانی پر رواں مہینے کے دوران یہ دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل 13 جولائی کو ان کے قافلے پر ہونے والے بم حملے میں چار افراد مارے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں رواں ماہ کے دوران کسی انتخابی امیدوار کی یہ دوسری ہلاکت ہے۔ اس سے قبل پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور پر ایک کارنر میٹنگ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں ہارون بلور سمیت 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہارون بلور پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG