رسائی کے لنکس

بلدیہ ٹاؤن آتشزدگی، عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ


آتشزدگی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سراپا احتجاج۔فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت مخالف جماعت نے سانحہ بلدیہ ٹاون اور بدنام زمانہ "ٹارگٹ کلر" عزیر بلوچ پر بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف صوبہ سندھ کے سینئر نائب صدر علی حیدر زیدی کی جانب سے چیف سیکرٹری سندھ کو تحریری مراسلہ بجوایا گیا۔

مراسلے میں چیف سیکرٹری سے کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 اے عوام کو معلومات تک رسائی کا حقدار بناتا ہے۔ عوام کو سانحہ بلدیہ ٹاون کی تحقیقاتی رپورٹ اور عزیر بلوچ کے انکشافات سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاون اور عزیر بلوچ کے انکشافات پر مبنی تحقیقاتی رپورٹس فراہم نہ کی گئیں تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

گیارہ ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ آگ لگنے پر مزدوروں نے باہر نکلنے کی کوشش کی جس پر مینیجر نے فیکٹری کا واحد دروازہ ہی بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔

سندھ رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کو اس واقعے میں ملوث قرار دے دیا گیا تھا۔

عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے اور ان پر کراچی کے علاقے لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔

عزیر بلوچ 2013 میں حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔

پولیس کو مطلوب عزیر بلوچ کو بذریعہ سڑک مسقط سے جعلی دستاویزات پر دبئی جاتے ہوئے انٹر پول نے 29دسمبر 2014 کو گرفتار کیا تھا۔

عزیر بلوچ کے پاکستان پیپلز پارٹی سے قریبی تعلقات رہے ہیں گو کہ اس جماعت کے راہنما اس بارے میں متضاد بیانات دیتے رہے۔

عزیز بلوچ کے انکشافات پر مبنی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ اور سانحہ بلدیہ ٹاون پر بھی تحقیقاتی رپورٹ کو باضابطہ طور پر عام نہیں کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG