رسائی کے لنکس

logo-print

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سو دن، بیرون ملک پاکستانیوں کی نظر میں


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی حکومت کے پہلے سو دن کے لیے قوم سے کئی بلند و بانگ وعدے کیے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے کئی وعدے پورے کر دیئے ہیں جب کہ کئی ایک پر کام جاری ہے۔

اس دعوے کے حق اور مخالفت میں ملک کے اندر بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرونی ملکوں میں آباد ہے جو ہر سال لگ بھگ 20 ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتی ہے۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی عمران خان کے پرستار ہیں اور اب ان کی حکومت آنے کے ایک سو دن کے بعد، ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی بیرونی ملکوں میں رہنے والے پاکستانی ان کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں ایک پاکستانی نژاد امریکی، طفیل احمد کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی ہو یا پھر اندرونی معاملات، ان کی نظر میں نئی حکومت درست سمت جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا پہلے سو دنوں میں چین، سعودی عرب، یو اے ای اور ملائیشیا کا دورہ ایک بہتر قدم تھا، اور ملک کے اندر پانی کے مسئلے سے لے کر معیشت کی بحالی تک کے مسائل سے درست طریقے سے نمٹا جا رہا ہے۔

برسلز میں مقیم ایک پاکستانی، خالد فاروقی کی نظر میں انتخابات سے پہلے عمران خان کے وعدے ان کے الفاظ میں بہتے پانی پر بنیاد رکھنے والی بات تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد عیاں ہوا کہ ان کے پاس کسی بھی وعدے کا کوئی قابل عمل پلان نہیں ہے۔ دو بلین لوٹی ہوئی رقم کو واپس لانا ہو یا دس ملین افراد کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ، نئے صوبے بنانے کا معاملہ ہو یا پھر فاٹا کے انضمام کا معاملہ، خالد فاروقی کی نظر میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی بزنس مین، امیر محمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بحالی ہے اور نئی حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا محض سو دن کی کارکردگی کی بنیاد پر کسی حکومت کو جانچنا درست نہیں۔

لندن میں ایک پاکستانی ماہر قانون، بیرسٹر امجد ملک کے خیال میں وزیراعظم عمران خان ملک کے اندر اور باہر پاکستانیوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرتے نظر نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ایک ایسی شخصیت کی بطور وزیر تعیناتی جن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہو اور جسے ملک کے اندر کئی مقدمات کا سامنا ہے، نئی حکومت کی پاکستانی تارکین وطن کے معاملے میں غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے نئے مواقع، ایئرپورٹ پر مزید سہولتیں مہیا کرنے اور زمینوں پر قبضے ختم کرانے کے جو وعدے ان سے کئے گئے تھے وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:05:00 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG